خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 454

خطبات محمود ۴۵۴ سال ۱۹۳۹ء۔بہانوں سے ٹال لیا جائے۔کئی لوگ کمزوری کے بہانہ کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتے۔بعض کہہ دیتے ہیں کہ اگر روزہ رکھا جائے تو پیچش ہو جاتی ہے۔بعض کہتے ہیں ضعف ہو جاتا ہے حالانکہ روزہ چھوڑنے کے لئے یہ کوئی کافی وجہ نہیں کہ پیچش ہو جایا کرتی ہے۔جب تک پیچش نہ ہو روزہ رکھنا ضروری ہے۔جب پیچش ہو جائے پھر بے شک چھوڑ دے۔اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں ہمیں روزہ رکھنے سے ضعف ہو جاتا ہے۔یہ بھی کوئی دلیل نہیں روزہ چھوڑنے کی۔صرف اُس کی شعف کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز ہے جس میں ڈاکٹر روزہ رکھنے سے منع کرے ورنہ یوں تو بعض لوگ ہمیشہ ہی کمزور رہتے ہیں تو کیا وہ کبھی بھی روزہ نہ رکھیں؟ میں اڑھائی تین سال کا تھا جب مجھے کالی کھانسی ہوئی تھی۔اُسی وقت سے میری صحت خراب ہے۔کئی دوست کہتے ہیں کہ شائد ہی کبھی ” الفضل میں یہ دیکھنا نصیب ہوتا ہو کہ آپ کی صحت اچھی ہے۔میں کہتا ہوں کہ آپ کی خوشی کے لئے میں کس طرح اپنی صحت کو درست کر سکتا ہوں مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ کام لئے ہی جاتا ہے۔اگر ایسے ضعف کو بہانہ بنانا جائز ہو تو پھر میرے لئے تو شائد ساری عمر میں ایک روزہ بھی رکھنے کا موقع نہ تھا۔ضعف وغیرہ جسے روزہ چھوڑنے کا بہانہ بنایا جاتا ہے اُسی کی برداشت کی عادت ڈالنے کے لئے تو روزہ رکھایا جاتا ہے۔یہ تو ایسی بات ہے کہ قرآن کریم میں لکھا ہے نماز بدی سے روکتی ہے۔اس پر کوئی شخص کہے کہ میں نماز اس لئے نہیں پڑھتا کہ اس کی وجہ سے بدی سے رُک جاتا ہوں۔پس روزہ کی تو غرض ہی یہ ہے کہ کمزوری کی برداشت کی عادت پیدا ہو۔ورنہ یوں تو کوئی یہ بھی کہ سکتا ہے کہ میں اس لئے روزہ نہیں رکھتا کہ مجھے بھوک اور پیاس لگ جاتی ہے۔حالانکہ اسی قسم کی تکالیف کی برداشت کی عادت پیدا کرنے کے لئے ہی تو روزہ مقرر کیا گیا ہے۔جو شخص روزہ رکھے کیا وہ چاہتا ہے کہ فرشتے سارا دن اُس کے پیٹ میں کباب ٹھونستے رہیں؟ جب بھی کوئی روزہ رکھے گا۔بھوک، پیاس ضرور برداشت کرنی پڑے گی اور کچھ ضعف بھی ضرور ہو گا اور اس کمزوری اور ضعف کی عادت پیدا کرنے کے لئے روزہ رکھایا جاتا ہے اور بھی حکمتیں کی اس کی ہیں مگر یہ حکمت بھی ضرور مد نظر ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ جو لوگ بھو کے اور پیا سے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں ان کی کیا حالت ہوتی ہے اور اس طرح اسے ان کی مدد اور اعانت