خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 455

خطبات محمود ۴۵۵ سال ۱۹۳۹ء کی طرف توجہ ہو۔روزہ اس لئے نہیں رکھایا جاتا کہ انسان کو کوئی تکلیف ہی نہ ہو اور کوئی ضعف وہ محسوس نہ کرے۔تو ضعف کے خوف سے روزہ چھوڑ نا ہرگز جائز نہیں سوائے اس کے کہ کوئی بوڑھا ہو چکا ہو یا ڈاکٹر اس کے ضعف کو بھی بیماری قرار دے۔اس صورت میں بے شک روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔ضعف کے متعلق ظاہری ڈیل ڈول اور صورت سے بھی کوئی نتیجہ نہیں نکالنا چاہئے۔بعض لوگ بالکل ہٹے کٹے ،موٹے تازے ہوتے ہیں بخوبی چلتے پھرتے ہیں لیکن دراصل وہ بیمار کی ہوتے ہیں اور ان کے لئے روزہ رکھنا جائز نہیں ہوتا۔بالخصوص جن لوگوں کو دل کی بیماری ہو وہ کی بظاہر تو موٹے تازے نظر آتے ہیں لیکن بیٹھے بیٹھے اُن کی جان نکل جاتی ہے۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شور کی آواز کان میں پڑی اور ان کی جان نکل گئی بلکہ یہاں تک بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسے مریض کے پاس کوئی تھالی فرش پر گری یا اور ایسا ہی کوئی شور ہو ا تو اس کی جان نکل گئی۔ایسے می لوگوں کے لئے بھوک پیاس کا برداشت کر ناسخت خطر ناک ہوتا ہے۔ہے۔پس کمزوری یا ضعف کا فیصلہ بظاہر دیکھنے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ دیکھنا ہو گا کہ ڈاکٹر کیا کہتا مجھے افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سے ڈاکٹر بھی دیانتداری سے کام نہیں کرتے۔ذرا کوئی شخص دو چار بار مجھک کر سلام کر دے تو جو چاہے ڈاکٹر سے لکھوالے۔یوروپین لوگ اپنے پیشہ میں بے حد دیانت دار ہوتے ہیں گوان میں مذہب نہیں۔یہاں کے ڈاکٹروں کا تو یہ حال ہے کہ ایک واقعہ مجھے یاد ہے۔ایک ڈاکٹر نے انجمن کے کسی کارکن کو بیماری کا سرٹیفکیٹ دیا۔تحقیقات پر معلوم ہوا کہ معمولی نزلہ زکام تھا مگر ڈاکٹر نے سفارش کر دی کہ بیمار ہے اور دفتر کی جانے کے قابل نہیں۔وہ سو دالینے بھی گیا ، بازاروں میں بھی پھرتا رہا لیکن دفتر میں ضروری کام کے لئے بلایا گیا تو نہ آیا اور کہہ دیا کہ مجھے ڈاکٹر نے سرٹیفکیٹ دیا ہوا ہے۔یہ نور ہسپتال کے انچارج صاحب کا ذکر نہیں بلکہ اور ڈاکٹر کا ذکر ہے۔غرض ہندوستانی ڈاکٹروں میں پیشہ کی دیانت بہت کم ہے اور ظاہر ہے کہ ایسے سرٹیفکیٹ کا کیا اعتبار ہوسکتا ہے۔ایک شخص اپنے افسر سے لڑ پڑتا ہے اور چاہتا ہے کہ چند روز اس کے