خطبات محمود (جلد 20) — Page 431
خطبات محمود ۴۳۱ سال ۱۹۳۹ ء محبت کا ثبوت ملتا ہے کیونکہ آپ چاہتے ہیں کہ انگریز ہمیشہ حاکم رہیں اور ہم ہمیشہ ان کے غلام رہیں ۔ میں نے وہ خطبات تو واقع میں اسی لئے پڑھے تھے کہ انگریزوں کی امداد ہو لیکن اس نو جوان پر یہ اثر ہوا ہے کہ وہ لکھتا ہے مجھے انگریزوں سے اور بھی نفرت ہو گئی ہے کیونکہ ان ہوتی ہے خطبات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگریزوں کی دائمی غلامی ہمیں نصیب ہو جائے گی ۔ میں اس کی پیش کردہ باتوں کا جواب تو آگے چل کر دوں گا مگر جب میں نے یہ خط پڑھا تو میں نے اپنے دل میں کہا چلو میرے خطبوں نے دونوں قوموں کو خوش کر دیا ۔ ایک طرف انگریز خوش ہو گئے کہ میں دیا۔ ہو نے اس نازک موقع پر جماعت کو ان کی اعانت کی تحریک کی اور دوسری طرف کانگرس کے اکسٹریمسٹ (EXTREMIST) مسٹر بوس وغیرہ کو بھی میرا ممنون ہونا چاہئے کہ بعض لوگوں پر میرے ان خطبات کا یہ اثر ہوا ہے کہ ان کے دلوں میں انگریزوں کی نفرت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کہتے ہیں دو شکار ایک پتھر کے ساتھ ۔ سو میرے ان دو خطبات نے دونوں کو شکار کر لیا ۔ خیر یہ تو ایک لطیفہ تھا اب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں ۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لوگ افترا کرتے ہیں ، جھوٹ باندھتے ہیں ، غلط الزام لگاتے ہیں مگر وہ دشمن ہوتے ہیں لیکن یہ اتہام ایک دوست نے لگایا ہے۔ اُس دوست نے جو احمدی ہے۔ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ میں نے کبھی یہ کہا ہے کہ اگر انگریزی حکومت چلی جائے تو میں موت کو ترجیح دوں گا یا یہ کہ انگریزوں کی حکومت ہمیشہ ہمیش قائم رہے اور ان کی دائمی غلامی دنیا کو نصیب رہے۔ میرے خطبے چھپے ہوئے موجود ہیں اور اس دوست نے بھی چھپے ہوئے خطبے ہی پڑھے ہیں۔ چنانچہ وہ یہ نہیں کہتے کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سُنا بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے آپ کے خطبے چھپے ہوئے پڑھے۔ پس وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ نے کہا کچھ تھا پھر خطبہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے اُسے بدل دیا۔ ان حالات میں میں حق رکھتا ہوں کہ اُن سے پوچھوں کہ وہ میرے الفاظ کیا ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انگریزوں کی دائمی غلامی مجھے محبوب ہے ۔ یا یہ کہ اگر انگریزی حکومت نہ رہے تو میں موت کو پسند کروں گا۔ میں نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ اگر گا۔ میں نے یہ ہر گز میں انگریزی حکومت چلی جائے تو میں زندگی پر موت کو ترجیح دوں گا یہ بالکل جھوٹ ہے۔ میں تو