خطبات محمود (جلد 20) — Page 432
خطبات محمود ۴۳۲ سال ۱۹۳۹ء اس بات کا قائل ہوں کہ انگریزی حکومت چھوڑ دُنیا میں سوائے احمدیوں کے اور کسی کی حکومت نہیں رہے گی۔پس جبکہ میں اس بات کا قائل ہوں بلکہ اس بات کا خواہشمند ہوں کہ دُنیا کی ساری حکومتیں مٹ جائیں اور اُن کی جگہ احمدی حکومتیں قائم ہو جائیں تو میرے متعلق یہ خیال کرنا می کہ میں اپنی جماعت کے لوگوں کو انگریزوں کی دائمی غلامی کی تعلیم دیتا ہوں کہاں تک درست ہوسکتا ہے۔پھر جس کی یہ خواہش ہو کہ دُنیا میں احمدی حکومت قائم ہو جائے اور احمدی حکومت کی کے سوا اور کوئی حکومت نہ رہے۔کیا وہ کہ سکتا ہے کہ اگر انگریز چلے جائیں تو میں زندگی پر موت کو تر جیح دے دوں گا۔پس یہ بالکل غلط بات ہے جو کہی گئی اور چونکہ یہ کہنے والا ایک احمدی ہے اس لئے میں یہ تو نہیں کہتا کہ اس نے افترا کیا ہے مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ بات جھوٹ ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خطبہ میں ایسے الفاظ ہیں کہ فلاں بات نہ ہو تو میں موت کو ترجیح دوں گا مگر یہ الفاظ نہیں کہ اگر انگریزی حکومت جاتی رہے تو میں زندگی پر موت کو ترجیح دوں گا۔میرے الفاظ کا مطلب یہ تھا کہ اگر ایسی حکومت جس میں تبلیغ کی آزادی ہے جاتی رہے اور اس کی بجائے کوئی ایسی حکومت آ جائے جو تبلیغ کو بند کر دے اور دہریت اور الحاد کی رو چلا دے تو میں چاہتا ہوں کہ اُس دن کے آنے سے پہلے پہلے ہر احمدی مر جائے تا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کہہ سکے کہ جب تک میں زندہ رہا میں نے تیرے نام کو نہیں چھپایا۔میری موت کے بعد اگر کوئی ایسے حالات پیدا ہو گئے تو مجھے ان کا علم نہیں اور ان الفاظ میں اور اُن الفاظ میں جو اس احمدی نے لکھے زمین و آسمان کا فرق ہے۔میرے اس بیان پر جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے تین قسم کے اعتراض ہو سکتے ہیں۔اوّل۔معترض یہ کہہ سکتا ہے کہ بیشک یہ صورتِ حالات پیدا ہو جائے ہمیں اس کی پرواہ کی نہیں۔آپ کہتے ہیں میں ایسی حالت سے موت بہتر سمجھتا ہوں۔سو آپ بے شک موت بہتر سمجھیں ہم ان حالات میں موت کو ترجیح نہیں دے سکتے اور نہ ہم اس صورت حالات کی پرواہ کر سکتے ہیں۔اس اعتراض کو دوسرے الفاظ میں یوں ادا کیا جاسکتا ہے کہ دنیا میں سے بے شک ایسی حکومتیں مٹ جائیں جو اپنی رعایا کو تبلیغ کی اجازت دیتی ہیں اور بیشک وہ حکومتیں