خطبات محمود (جلد 20) — Page 411
خطبات محمود ۴۱۱ سال ۱۹۳۹ء ایک کو تو خصوصیت سے حکومت ہالینڈ نے یہاں بھیجا تھا تا کہ وہ مرکز کے متعلق براہ راست واقفیت حاصل کرے۔غرض یہ دو حکومتیں تو صاف طور پر نظر آتی ہیں۔باقی حکومتوں کا یہ حال ہے کہ ان کے ملک میں ہمارا مبلغ چار مہینے رہتا ہے تو وہ اسے پکڑ کر باہر نکال دیتی ہیں۔پھر وہ اگلی حکومت کے علاقہ میں جاتا ہے اور وہاں سے دو چار ماہ کے بعد اسے نکلنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔پھر وہ اگلی حکومت میں جاتا ہے اور وہاں بھی اسے یہی کہا جاتا ہے کہ نکل جاؤ ہمارے ملک سے۔کیا تم چاہتے ہو کہ دُنیا میں ان قوموں کی حکومت ہو جو احمدی مبلغین کو کان پکڑ پکڑ کر اپنے ملک سے باہر نکال دیں اور اسلام اور احمدیت کی اشاعت کا دروازہ بند ہو جائے۔صرف اس لئے کہ بعض انگریزوں نے ظلم کئے اور تم چاہتے ہو کہ اس ظلم کی انہیں سزا ملے۔میں جیسا کہ بتا چکا ہوں جب امن کا وقت ہوگا اور ایسے مقابلہ کی ضرورت پیش آئے گی میں یقیناً جماعت سے مطالبہ کروں گا کہ جو مظالم اس پر ہوتے رہتے ہیں ان کو یاد کرتے ہوئے وہ ان حکام کو سزا دلوائے جو ان شرارتوں کے بانی تھے مگر جب پھر کوئی خطرے کا وقت آیا تو میں کہوں گا کہ حکومت کی مدد کرو کیونکہ تبلیغ ذاتی جذبات مادی نقصانات اور زبانی ہتک سے بہت زیادہ قیمتی ہے۔ایک شخص ہم سے آپ آپ کہہ کر گفتگو کرے مگر ہمیں تبلیغ کرنے کی اجازت نہ دے اور دوسرا ہمیں مارے پیٹے اور گالی گلوچ دے مگر تبلیغ کی اجازت دے تو میں تو یہی کہوں گا کہ جو شخص ہمیں مارتا ہے وہ زیادہ اچھا ہے بہ نسبت اس کے جو ہمیں آپ آپ کہتا ہے مگر تبلیغ سے روکتا ہے۔میرے قلبی جذبات اس بارے میں جو کچھ ہیں ان کا اظہار میں نے ایک شعر میں کیا ہوا ہے۔جب یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں داخل ہونے سے پہلے مفتی محمد صادق صاحب کو روکا گیا تو اس وقت میں نے ایک نظم کہی جس کا ایک شعر یہ ہے کہ ؎ اس زندگی سے موت ہی بہتر ہے اے خدا جس میں کہ تیرا نام چھپانا پڑے ہمیں پس یہ مظالم تو حقیر چیز ہیں میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ اس زندگی سے موت بہتر ہے جس میں انسان کو اللہ تعالیٰ کا نام چھپانا پڑے اور میں تو چاہتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا نظام فائق ہونے والا ہو جس میں تبلیغ کے راستہ میں یقینی طور پر روکیں واقع ہو جاتی ہوں تو اُس دن کے آنے سے