خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 412

خطبات محمود ۴۱۲ سال ۱۹۳۹ء پہلے پہلے ہر احمدی مر جائے تا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کہہ سکے کہ اے میرے خدا جب تک میں زندہ کی رہا میں نے تیرے نام کو نہیں چھپایا میری موت کے بعد اگر کوئی ایسی روکیں تیرے نام کی بلندی میں حائل ہو گئی ہیں تو مجھے ان کا علم نہیں۔پس یہ دن ایسے نہیں ہیں کہ ہم دوسری قسم کے جذبات کی رو میں اپنے آپ کو بہاتے چلے جائیں۔میرے نزدیک ہر وہ احمدی جو آج حکومت برطانیہ کے ساتھ تعاون کرنے میں تنگی محسوس کرتا ہے یا تو اس کی عقل میں فتور ہے یا اس کے دین میں فتور ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم ان مظالم کو بھول جاؤ وہ چیزیں موجود ہیں اور جب جنگ ختم ہو گی تو پھر ان کے متعلق سوال اُٹھا دیا جائے گا لیکن جب اس سے بہت زیادہ اہم معاملہ اور ایک ہیبت ناک خطرہ ہمارے سامنے موجود ہے تو ہمیں یقیناً اپنے تمام سابقہ اختلافات کو بھول جانا چاہئے اور میرے نزدیک اگر کوئی احمدی ان باتوں کو دیکھنے کے باوجود پھر بھی اپنے دل میں قبض محسوس کرتا اور حکومت کی برطانیہ کی مدد سے گریز کرتا ہے تو اس کے متعلق میں یہی سمجھوں گا کہ یا تو اس کی عقل میں فتور ہے کی اور یا اس کے دین میں فتور ہے۔دونوں میں سے ایک بات ضرور ہے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ آنے والے واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے متعدد بار متعد در ویا اور کشوف کے ذریعہ ان حالات کی خبر دی ہوئی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے بھی تمام باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔تم اس بات کو معمولی نہ سمجھو بلکہ یقیناً یا د رکھو کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بار ہا بتایا دُنیا میں ایسی آفات آنے والی ہیں کہ وہ قیامت کا نمونہ ہوں گی اور بسا اوقات ان آفات کو دیکھ کر انسان یہ خیال کرے گا کہ اب دُنیا میں شاید کوئی انسان بھی باقی نہیں رہے گا۔ایسے نازک موقع پر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور فقر بانیوں کو کمال تک پہنچانا نہایت ضروری ہوتا ہے۔جب ہماری جماعت اپنی قربانی کو کمال تک پہنچا دے گی اور اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح عہدہ برآ ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اُس کی مدد بھی اُس کے شامل حال ہو گی۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذہنی اصلاح کرے جیسا کہ اس نے اپنی ظاہری اصلاح کی ہوئی ہے کیونکہ اگر کسی شخص کے دل میں اس قسم کے خیالات پیدا ہو جائیں تو ان کے