خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 410

خطبات محمود ۴۱۰ سال ۱۹۳۹ء نہ کہ دوسرے ملکوں سے۔سیاست کا تعلق صرف اسی حد تک ہے کہ امریکہ والے کہیں کہ جو چی ہمارے ملک میں آتا ہے وہ نہ خود دوسری شادی کرے اور نہ اوروں کو دو شادیاں کرنے کی تلقین کرے مگر یہ انہیں کہاں سے اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ یہ مطالبہ کریں کہ دوسرے ملکوں میں رہ کر بھی تم اسی قانون کے پابند ر ہو جو امریکہ میں جاری ہے۔حتی کہ انہوں نے اس کے سامنے قرآن کھول کر رکھ دیا اور مشنى وَثُلَثَ ، والی آیت پر ہاتھ رکھ کر اس سے پوچھا کہ تم اس آیت کو مانتے ہو یا نہیں ؟ اُس نے کہا میں اسے مانتا ہوں۔وہ کہنے لگے پھر تمہیں اس ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔یہ اس ملک کا حال ہے جو آزادی مذہب میں انگریزوں سے بھی زیادہ روادارانہ جذبات رکھنے کا مدعی ہے۔اس کے بعد بیشک وہ یہ دعویٰ کرتے رہیں مگر ہم انہیں یہی کہیں گے کہ تم بے شک آزادی مذہب کے اصول کے قائل ہومگر انگریزوں سے کم اور ہم یہ رائے اس وقت تک رکھنے پر مجبور ہیں جب تک تم ان قواعد کو نہ بدلی دو جو اس قدر تنگ دلی اور تنگ نظری پیدا کرنے والے ہیں۔ہم یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ والوں کے ممنون احسان بھی ہیں کہ اُنہوں نے ہمارے بعض پرانے مبلغوں کو اپنے مُلک میں رہنے کی اجازت دی ہوئی ہے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سرزمین امریکہ میں نہایت جوشیلے احمدی موجود ہیں ، وہ چندے بھی دیتے ہیں، وہ تبلیغ بھی کرتے ہیں اور سلسلہ کے کاموں میں بڑے اخلاص سے حصہ لیتے ہیں۔غرض وہ اسلام کی نہایت خدمت کرنے والی مخلص اور جوشیلی جماعت ہے۔پس یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کا دوسرے بہت سے ممالک سے اچھا نمونہ ہے مگر پھر بھی جب تک وہ اس قسم کی تنگدلی کو دور نہیں کرے گی ہم اس بات پر مجبور ہیں کہ انہیں انگریزوں سے کم روادار قرار دیں۔دوسرے نمبر پر ہالینڈ کی حکومت ہے۔سماٹرا اور جاوا میں بیسیوں جگہ احمد یہ جماعتیں قائم ہیں اور حکومت کے افسران کے ساتھ تعاون کرتے ہیں بلکہ ان کے دوقو نصل مجھے ملنے کے لئے قادیان بھی آئے تھے اور اُنہوں نے مجھے کہا تھا کہ چونکہ آپ کی جماعت کے کئی لوگ ہمارے ملک میں آباد ہیں اس لئے ہم نے چاہا کہ جماعت کے مرکز کو بھی دیکھ لیا جائے۔ان میں سے