خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 409

خطبات محمود ۴۰۹ سال ۱۹۳۹ ء کی حیثیت سے حکومت تسلیم نہ کرلے گی اور موجودہ جنگ کے ختم ہونے کے بعد ممکن ہے ہم اپنے اس حق کا پھر حکومت سے مطابلہ کرنا شروع کر دیں لیکن مقامی حکومت کے بعض افسروں سے ہماری وہ جنگ ایسی ہی تھی جیسے گھر میں دو آدمی آپس میں لڑ پڑیں۔ بھائی بھائی بھی بعض دفعہ آپس میں لڑ پڑتے ہیں مگر جب کوئی غیر آجائے تو پھر انہیں اپنی لڑائی بھول جاتی ہے اور وہ متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اس وقت بھی حکومت انگریزی کو ایک بہت بڑی مہم درپیش ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس معاملہ میں حکومت کی امداد کریں کیونکہ اس حکومت کے ساتھ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ وابستہ ہے اور اگر یہ حکومت جاتی رہی تو یہ تمام فوائد بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ ہمارا یہ پچاس سالہ تجربہ ہے کہ دُنیوی حکومتوں میں سے سب سے بہتر حکومت برطانیہ ہے۔ دوسرے نمبر پر ہالینڈ کی حکومت ہے کیونکہ ہم نے جاوا اور سماٹرا میں تبلیغ کی اور ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ ہماری راہ میں روک نہیں بنے بلکہ اُنہوں نے ہمارے مبلغوں کے ساتھ انصاف کی حد تک تعاون کیا اور ان دونوں سے اُتر کر بعض اور حکومتیں بھی ہیں۔ جن میں یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ بھی شامل ہے ۔ گو حکومت امریکہ بعض دفعہ ہمارے مبلغوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روکتی بھی رہی ہے۔ چنانچہ تحریک جدید کے ماتحت ہمارا ایک مبلغ یہاں سے امریکہ گیا تو اُنہوں نے اُسے اپنے ملک سے نکال دیا محض اس لئے کہ وہ ایک ایسے مذہب سے تعلق رکھتا ہے جس میں ایک وقت میں دو عورتوں سے شادیاں کرنا جائز ہے چنانچہ اُنہوں نے اس سے سوال کیا کہ تم یہاں دوسری شادی کی کسی کو اجازت دو گے یا نہیں؟ اُس نے کہا نہیں کیونکہ ہماری تعلیم یہ ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہیں اُس کے احکام کی اطاعت کریں۔ جب یہاں کی حکومت دو شادیاں جائز نہیں سمجھتی تو میں بھی کسی کو دوسری شادی کی اجازت نہیں دوں گا۔ اُنہوں نے کہا اچھا یہ بتاؤ تم اسے جائز سمجھتے ہو یا نہیں؟ وہ کہنے لگا ہماری تعلیم یہ ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہو اُس کی پوری پوری اطاعت کرو ۔ اس تعلیم کے ماتحت میں اس جگہ اسے جائز نہیں سمجھوں گا ۔ وہ کہنے لگے یہاں کا سوال جانے دو۔ تم باہر کے کسی ملک میں دو شادیاں جائز سمجھتے ہو یا نہیں؟ وہ کہنے لگا یہ تو میرے مذہب کی تعلیم ہے میں اسے ناجائز کس طرح سمجھ سکتا ہوں ۔ اُنہوں نے کہا تو پھر تم یہاں نہیں آسکتے ۔ حالانکہ انہیں صرف اپنے ملک سے غرض تھی