خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 408

خطبات محمود ۴۰۸ سال ۱۹۳۹ء خلاصہ کلام یہ کہ لڑائی معمولی نہیں اور اس کے اثرات بہت وسیع پیدا ہوں گے۔پس جماعت احمدیہ کو ان حالات میں یہ دیکھنا چاہئے کہ اسلام اور احمدیت اور ہندوستان کا کس امر میں فائدہ ہے اور دوسرے ہندوستانیوں کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ ہندوستان اور ہندوستان والوں کا کس امر میں فائدہ ہے جہاں تک میں سمجھتا ہوں ایک ہندوستانی ہونے کی حیثیت میں بھی یقیناً انگریزوں کی فتح مفید ہے اور اگر ہم اسلام اور احمدیت کے نقطہ نگاہ سے دیکھیں اور ہم غور کریں کہ کس کے جیتنے میں احمدیت کا فائدہ ہے تو اس صورت میں بھی یقیناً یہی نظر آئے گا کہ انگریزوں کی فتح اسلام اور احمدیت کے لئے مفید ہے مگر نو جوانوں کی ذہنیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ تھوڑے ہی دن ہوئے میں سیر کے لئے باہر نکلا تو ایک نو جوان میرے پاس دوڑتا ہوا آیا۔اس کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے اور اس نے آتے ہی مجھے کہا حضور پولینڈ میں روس داخل ہو گیا ہے۔میں نے اس وقت مسکرا کر کہا کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ روس کے ساتھ آپ کی بھی پتی ہے۔پتی پنجاب میں حصہ کو کہتے ہیں ) پھر تھوڑے سے وقفہ کے بعد میں نے انہیں سمجھایا اور کہا کہ میرے لئے یہ کیسے تعجب کی بات ہوگی اگر ہمارا کوئی شدید دشمن منارة المسیح کے نیچے کھڑا ہو اور ایک احمدی یہ کہے کہ کیا ہی اچھا ہواگر یہ منارہ گر جائے اور یہ دشمن اس کے نیچے دب کر مر جائے۔میں نے کہا کیا آپ ایسے احمدی کی خواہش کو معقول کہیں گے؟ اگر نہیں تو پھر غور کریں اس وقت ایک طرف اسلام اور احمدیت کی اشاعت کا سوال ہے، ایک طرف اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کا مسئلہ ہے اور دوسری طرف یہ بات ہے کہ حکومت کے بعض حکام نے ہمیں دُکھ دیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ انہیں سزا ملے۔اب کیا ان دونوں باتوں کا موازنہ کرتے ہوئے کوئی شخص بھی یہ کہنے کے لئے تیار ہے کہ اسلام کی تبلیغ بے شک رُک جائے ، احمدیت کی اشاعت بے شک بند ہو جائے ، دین کو پھیلانے کی راہ میں جو آسائشیں ہیں وہ بیشک جاتی رہیں مگر کسی طرح میرے دل کا کینہ پورا ہو جائے۔بیشک جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا۔مقامی حکومت کے ساتھ ہر مخلص احمدی کی اس وقت تک جنگ جاری رہے گی جب تک ان حکام کو جو ان شرارتوں کے بانی تھے سزا نہ ملے گی اور قادیان کو ہمارے مذہبی مرکز گو زبانی میں نے نہیں کہا مگر خطبہ کی اصلاح کرتے وقت میں نے بڑھا دیا تھا۔