خطبات محمود (جلد 20) — Page 334
خطبات محمود ۳۳۴ سال ۱۹۳۹ء ساٹھ مسلمان چن کر دشمن پر حملہ کر دوں۔اسلامی کمانڈر نے اس سے انکار کیا لیکن بعض اور صحابہ نے خالد کی تائید کی اور اُنہوں نے بھی کہا کہ یہ درست ہے۔خالد گوساٹھ آدمی اپنے ڈھب کے چن لینے دیئے جائیں۔چنانچہ لشکر میں اعلان کیا گیا کہ جولوگ اس جنگ میں اپنی جان دینے کے لئے تیار ہوں وہ اپنے آپ کو پیش کریں۔اس اعلان پر سینکڑوں مسلمانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا جن میں سے اُنہوں نے ساٹھ آدمی چچن لئے۔ان میں سے ایک ان کا پُرانا دوستی عکرمہ، ابو جہل کا بیٹا بھی تھا۔یہ ساٹھ آدمی تھے اور اُدھر قیصر کی فوج کا جو اگلا دستہ تھا اُس میں ساٹھ ہزا ر عرب عیسائی تھا۔بعض عرب کے قبائل عیسائی بھی تھے اور وہ قدرتی طور پر قیصر سے مل گئے تھے اور قیصر بھی زیادہ تر انہی کو فوج کے آگے رکھتا کیونکہ وہ سمجھتا کہ عربوں سے عرب ہی جنگ کرنا جانتے ہیں اور یہ چونکہ گھوڑے کے خوب سوار ہیں اور لوہے کو لوہا کاٹتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ عربوں کو ہی آگے رکھا جائے۔ادھر ان ساٹھ نے یہ اقرار کیا کہ وہ سب یکدم حملہ کر کے قلب لشکر میں پہنچ کر عیسائی کمانڈر کو قتل کر دیں گے۔چنانچہ انہوں نے گھوڑوں کی باگیں اُٹھا ئیں اور قلب لشکر پر حملہ کر دیا۔تم سمجھ سکتے ہو کہ دس لاکھ کا کمانڈر جہاں کھڑا ہوگا وہاں اس کے پہرے اور حفاظت کا کتنا بڑا سامان ہو گا مگر جس طرح تیر کمان سے چھٹتا ہے یا جس طرح باز چڑیا پر جھپٹتا ہے اسی طرح وہ کی قلب لشکر کی طرف بڑھے۔کچھ ان میں سے زخمی ہوئے ، کچھ شہید ہوئے اور کچھ قلب لشکر میں جا پہنچے اور عین وسط میں پہنچ کر انہوں نے عیسائی کمانڈر کو قتل کر دیا یا بھگا دیا۔مجھے اس وقت پوری طرح یاد نہیں۔اسلامی لشکر کھڑا ہوا اس حملہ کا نظارہ دیکھ رہا تھا لیکن جونہی وہ دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے اندر گھسے بعض مسلمان افسروں نے سردار لشکر کو مشورہ دیا کہ اب ان کو کیلے لڑنے دینا مناسب نہیں بہتر ہے کہ ہم بھی ساتھ ہی حملہ کر دیں۔چنانچہ انہوں نے بھی ساتھ ہی حملہ کر دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ شام تک وہ عیسائی لشکر جو اتنی بڑی شان و شوکت کے ساتھ آیا تھا تتر بتر ہو گیا۔یہی وہ لوگ ہیں جن کا ایک مشہور قصہ تاریخوں میں آتا ہے جسے پڑھ کر ہر مسلمان کی رگوں میں خون تیزی سے چلنے لگ جاتا ہے اور اس کے دل میں غیرت اور قربانی کا شاندار جذ بہ پیدا ہو جاتا ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ انہی ساٹھ آدمیوں میں سے سات آدمی شدید زخمی ہوئے۔