خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 333

خطبات محمود ۳۳۳ سال ۱۹۳۹ء اس قسم کی جانی قربانی کی ملتی ہیں۔اسلام لانے کے بعد آرام سے بیٹھنا انہوں نے اپنے لئے پسند ہی نہیں کیا۔ہمیشہ جہاں جنگ ہوتی پہنچ جاتے۔اگر ایک جگہ جنگ ختم ہو جاتی تو دوسری جگہ اپنے آپ کو والنٹیئر کر دیتے اور دوسری جگہ سے فارغ ہوتے تو تیسری جگہ اپنے آپ کو والنٹیئر کر دیتے۔کوئی خطرے کا مقام ایسا نہیں تھا جہاں وہ نہ پہنچتے ہوں حتی کہ وہ فیصلہ کن آخری جنگ جس میں قیصر نے اپنے ایک جرنیل کو اس شرط پر جنگ کرنے کے لئے بھیجا تھا کہ اگر تم فتح کر کے آؤ گے تو میں اپنی بیٹی کی تم سے شادی کر دوں گا اور آدھے ملک کی سلطنت تمہیں دے دوں گا۔اس میں بھی خالد کی تدبیر سے ہی مسلمانوں کو فتح ہوئی۔تم سمجھ سکتے ہو کہ ایک عظیم الشان سلطنت کا نصف حصہ مل جانا اور شاہی خاندان کا فرد بن جانا کوئی معمولی بات نہیں اور تم یہ بھی سمجھ سکتے ہو کہ اس کے لئے اُس جرنیل نے کس قدر سر توڑ کوششیں کی ہوں گی۔اسلامی تاریخیں بتاتی ہیں کہ وہ جرنیل مسلمانوں کے مقابلہ میں دس لاکھ فوج لا یا لیکن یورپین تاریخیں کی قیصر کی فوج کی تعداد دو سے تین لاکھ تک بتاتی ہیں۔اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی فوج اسلامی تاریخ کے مطابق ساٹھ ہزار اور عیسائی تاریخ کے مطابق ایک لاکھ تھی۔بہر حال ادنیٰ سے ادنی کی اندازہ بھی اگر لگا لیا جائے تو کفار کے لشکر کی نسبت مسلمانوں کے مقابلہ میں ایک اور تین کی تھی۔یعنی مسلمان اگر ایک تھا تو کا فرتین تھے۔پھر وہ تین لاکھ ایک منظم فوج کا حصہ تھے کیونکہ قیصر کی حکومت کوئی معمولی حکومت نہیں تھی۔کفار کے لشکر کی کثرت دیکھ کر اسلامی کمانڈر انچیف کی نے تجویز کیا کہ ہمیں پیچھے ہٹ جانا چاہئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھنا چاہئے کہ ہماری مدد کے لئے اور فوج بھجوائی جائے۔خالد بن ولید ہی وہ شخص تھے جنہوں نے اس موقع پر کھڑے ہو کر کہا کہ میں ہرگز یہ مشورہ نہیں دیتا کہ اسلامی لشکر کو پیچھے ہٹنا چاہئے کیونکہ اگر ہم پیچھے ہے تو دشمن چونکہ آخری اور فیصلہ کن جنگ کرنے کے ارادہ سے نکلا ہے اور وہ تہیہ کئے ہوئے ہے کہ کی یا تو وہ ہمیں مار دے گا یا خود مر جائے گا۔اس لئے اگر ہم پیچھے ہے تو دشمن کا دل بڑھ جائے گا اور پھر ہمارے قدم مدینے تک نہیں ٹھہریں گے اور خالد بن ولید ہی تھے جنہوں نے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں ساٹھ ہزار لشکر کم ہے مگر میں کہتا ہوں کہ اسلام نے جو غیرت اور قربانی کا مادہ مسلمانوں کے اندر پیدا کیا ہوا ہے اس کے لحاظ سے مجھے اجازت دی جائے کہ میں صرف