خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 335

خطبات محمود ۳۳۵ سال ۱۹۳۹ء جب عیسائی لشکر کو شکست ہوگئی تو ایک مسلمان زخمیوں کی دیکھ بھال کے لئے میدانِ جنگ کا چکر کاٹ رہا تھا کہ اس نے ایک شخص کو نزع کی حالت میں دیکھا۔قریب پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ شدت پیاس کی وجہ سے اپنے ہونٹوں پر زبان مل رہا ہے اُس نے پوچھا تمہیں پیاس لگی ہوئی ہے؟ وہ کہنے لگا ہاں۔اس نے اپنی چھا گل سے پانی نکالا اور اُسے پینے کے لئے دینا چاہا تو اُس کی نگاہ اپنے پاس پڑے ہوئے ایک اور زخمی کی طرف پھر گئی اور وہ کہنے لگا یہ شخص مجھے سے زیادہ پیاسا معلوم ہوتا ہے پہلے اسے پانی پلاؤ۔وہ اُس کے پاس پانی لے کر گیا تو اس نے کی اپنے پاس پڑے ہوئے ایک اور زخمی کی طرف دیکھ کر کہا مجھے بھی پیاس ہے مگر اسے مجھ سے زیادہ پیاس معلوم ہوتی ہے پہلے اسے پانی پلاؤ۔وہ اُسے چھوڑ کر تیسرے کی طرف متوجہ ہو ا تو اُس نے چوتھے کی طرف اشارہ کر دیا اور کہا کہ پہلے اُسے پانی پلایا جائے۔اسے زیادہ پیاس معلوم ہوتی ہے۔اسی طرح ہر شخص نے اُسے دوسرے کو پانی پلانے کی تاکید کی۔یہاں تک کہ وہ ساتویں شخص تک پہنچ گیا جب اس کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔پھر وہ واپس دوسرے کی طرف گیا تو جس جس کے پاس پہنچا اُس کی جان نکل چکی تھی۔سے تو زخموں سے چور، پیاس سے بالکل لاچار اور جان کندنی کی حالت میں صحابہ نے اس قسم کے ایثار سے کام لیا کہ دُنیا کی تاریخ اس قسم کی کوئی اور مثال پیش کرنے سے عاجز ہے اور ہر سچا مسلمان جو اس واقعہ کو پڑھتا ہے اُس کی کے دل میں بھی یہ خواہش اور آرزو پیدا ہوتی ہے کہ کاش اللہ تعالیٰ مجھے بھی اسلام کی خدمت کی ایسی ہی توفیق دے۔غرض خالد ان صفات کا مالک تھا جو میں نے اوپر بیان کی ہیں۔صحابہ میں سے جو چوٹی کے آدمی سمجھے جاتے تھے ان کی اولا د خالد کی فدائیت ، اس کی بہادری اور جذبۂ جان شاری کی وجہ سے ہمیشہ اس کے اردگرد جمع رہتی تھی اور باوجود اس کے کہ وہ بعد میں ایمان لائے تھے جس طرح شمع کے گرد پروانے جمع رہتے ہیں اسی طرح خالد بن ولید کے گردا کا بر صحابہ کی اولا د جمع رہتی تھی۔چنانچہ ان کے ارد گرد جمگھٹا رکھنے والوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریبی عزیز بھی تھے۔مثلاً حضرت عباس کے لڑکے فضل اکثر آپ کے ساتھ رہتے۔اسی طرح اس فدائی جمگھٹے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لڑکے بھی تھے۔غرض باوجود بعد میں