خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 257

خطبات محمود ۲۵۷ سال ۱۹۳۹ء اس وقت کے لئے تو یہ جواب تھا کہ ایسے افسر تھے جو غلط رپورٹیں کرتے تھے اور اس لئے اس نے کہہ دیا کہ ہمیں دھوکا دیا گیا مگر اس دفعہ اگر جلسہ ہو تو ہم کیا سمجھیں گے جب ایک دفعہ اس جلسہ کا تجربہ ہو چکا اور اس کے فسادات ظاہر ہو چکے، نتائج کا علم ہو چکا اور گورنمنٹ کو اپنی غلطی کو تسلیم بھی کرنا پڑا اور سب سے بڑے افسر نے خود یہ وعدہ کیا کہ آئندہ یہاں اس قسم کا جلسہ نہیں ہوگا تو اگر اب یہ ہو تو لازماً اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اب حکومت دیدہ دانستہ اس رائے پر چل رہی ہے جس پر چار سال قبل اس نے غلطی سے قدم مارا تھا۔اُس وقت کی غلطی کو تو ماتحت افسروں کی دھوکا دہی کی طرف منسوب کر دیا گیا تھا اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ اس نے دیدہ دانستہ ایسا کیا لیکن اگر اب ہو تو اس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ وہ دیدہ دانستہ فساد چاہتی ہے۔مجھے گورنمنٹ کی طرف سے ابھی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ وہ کیا چاہتی ہے؟ آیا یہ جلسہ ہونے دے گی یا نہیں ؟ لیکن میں حیرت میں ہوں کہ جیسا کہ میں نے سُنا ہے بعض مقامی حکام نے کہا ہے کہ اسے روکنے کی کوئی وجہ نہیں۔اگر یہ جلسہ ہو تو گورنمنٹ کیا جواب دے گی ہم کو اور دوسرے شرفاء کو؟ تیسرا نقطہ نگاہ اس کے متعلق ہماری جماعت کے لحاظ سے ہے اگر تو یہ تبلیغی جلسہ ہے تو ہمارے لئے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں اگر کوئی تبلیغ کے لئے آتا ہے تو بیشک آئے وہ ہمیں تبلیغ کی کرے ہم اُسے کریں گے اور اگر وہ تبلیغ کی حد تک محدو در ہیں تو یقیناً ان کا آنا آخر کار ہمارے لئے مفید ہوگا۔ہمارے پاس سچائیاں ہیں اور موٹی سے موٹی دلیلیں ایسی ہیں جن سے ان کے اعتراضات ہوا میں اُڑ جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسے ثبوت اور براہین عطا کئے ہیں اور ایسے نشانات آپ کی تائید کے ظاہر فرمائے ہیں کہ ہم یہ خیال بھی نہیں کر سکتے کہ کوئی دشمن ہمارے خیالات کو مشتبہ یا مشوش کر سکتا ہے۔اگر کوئی شخص ان تقریروں کی سے مشوش ہوسکتا ہے تو ان کے معنے یہ ہیں کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے اس خطبہ کے بعد اطلاع مل چکی ہے کہ حکومت نے اس جلسہ کو روک دیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ ہمارے آدمیوں سے بعض مقامی افسروں نے کہا تھا وہ ان کا ذاتی خیال تھا حکومت کا خیال نہ تھا۔بہر حال حکومت نے ایک منصفانہ اقدام کیا ہے جس کی وجہ سے وہ ہمارے شکریہ کی مستحق ہے۔