خطبات محمود (جلد 20) — Page 258
خطبات محمود ۲۵۸ سال ۱۹۳۹ء درجہ کو سمجھا ہی نہیں۔پس ان تقریروں سے کسی احمدی کو گھبرانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اور ان کی کی تردید نہایت معمولی دلائل سے ہو سکتی ہے۔اگر کوئی شخص دن کو کہہ دے کہ رات ہے تو ہر شخص کی آسمان کو دیکھے گا اور کہہ دے گا کہ یہ غلط کہتا ہے۔ہے تو یہ ایک لغو سا لطیفہ مگر نقشہ اس میں اچھا کھینچا گیا ہے۔کہتے ہیں کسی کو گانجا کھانے یا پینے کی عادت تھی مجھے پتہ نہیں اسے کھاتے ہیں یا پیتے ہیں۔ایک دن موسم اچھا تھا اور وہ اپنے دل میں سرور اور لذت محسوس کر رہا تھا۔وہ اس دکاندار کے پاس گیا جس سے گانجا لیا کرتا تھا اور اُسے کہا کہ دیکھو میں دس بارہ سال سے تمہارا خریدار ہوں اور تم جانتے ہو تم گانجا اچھا دو یا بُرا میں نے کبھی شکایت نہیں کی لیکن آج میں تم سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ ایسا اچھا گانجا دو کہ جس سے بہت ہی نشہ ہو۔آج میرا دل سرور چاہتا ہے۔دکاندار نے گانجا دیا جسے اُس نے استعمال کیا اُس کے بعد وہ حمام میں گیا اور وہاں غسل کیا اور اُسے بہت غصہ آیا کہ مجھے دکاندار نے میری تاکید کے باوجود ایسا گانجا دیا کہ جس کی سے کوئی نشہ نہیں ہوا۔چنانچہ وہ دکاندار کے پاس گیا اور کہا کہ میں نے تمہیں پرانا خریدار ہونے کا واسطہ دے کر سوال کیا تھا اور اتنی تاکید کی تھی مگر پھر بھی تم نے ایسا گانجا دیا کہ جس سے کوئی نشہ نہیں ہوا۔دکاندار نے جواب دیا کہ میری زبان کا تو تمہیں اعتبار نہیں ہو گا اس لئے میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ ذرا سر جھکا کر اپنے جسم کو دیکھونشہ ہوا ہے یا نہیں۔اُس نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ نشہ کی حالت میں وہ حمام سے نگا ہی نکل آیا ہے اور جب اُس نے نگاہ ڈالی تو شرمندہ ہو کر وہاں سے بھاگا۔تو سچائی پر کون پردہ ڈال سکتا ہے؟ کوئی ہزار باتیں بنائے صداقت کو نہیں چھپا سکتا۔اسی سفر سندھ میں ایک دن کسی بات پر مجھے سخت تکلیف اور رنج تھا اور سارا دن میری طبیعت پر اُس کا اثر رہا۔شدید گھبراہٹ تھی ، رات کو میں نے بہت دُعا کی اور جب سویا تو ایک رؤیا دیکھا۔میں نے دیکھا کہ جیسے میں کسی غیر ملک میں ہوں اور وہاں سے دوسرے ملک کو کی واپسی کا سفر اختیار کرنے والا ہوں۔میرے ساتھ خاندان کی بعض مستورات بھی ہیں اور بعض مرد بھی۔خواب میں میں سمجھتا ہوں جیسا کہ میں انگلستان میں ہوں اور فرانس سے ہو کر مشرق کی طرف آ رہا ہوں ہم ریل پر سوار ہونے کے لئے پیدل جا رہے ہیں۔ریل کے سفر کے بعد