خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 256

خطبات محمود ۲۵۶ سال ۱۹۳۹ء اپنی غلطی تسلیم کرنی پڑی۔خود گورنران کونسل کی چٹھی میرے پاس محفوظ ہے اور اگر یہ جلسہ ہوا تو ی شاید مجھے اسے شائع کرنا پڑے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح بعض ذمہ دار افسروں نے اس موقع پر صریح جھوٹ سے کام لیا تھا کہ ایک چٹھی میں تو لکھا ہے کہ آپ کی فلاں پیٹھی کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی تھی اور دس دن کے بعد ایک اور چٹھی آئی کہ اگر آپ کی فلاں چٹھی کا ہمیں پتہ ہوتا تو ایسا نہ کیا جاتا۔تو یہ واقعات ایسے ہیں جن سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اس زمانہ میں گورنمنٹ کو دھوکا دیا گیا اور اسے بھی اس دھوکا کی وجہ سے اپنے افسروں پر اعتبار کر کے بعض ایسی باتیں کہنی پڑیں جو غلط تھیں اور جن کی وجہ سے بعد میں اسے ندامت اٹھانی پڑی۔انہی دنوں میں پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس ٹچھٹی پر ولایت گئے ہوئے تھے۔میں نے دردصاحب کو لکھا کہ آپ ان سے ملیں اور پوچھیں کہ یہ کیا باتیں آپ لوگ کر رہے ہیں؟ قادیان کا جلسہ اور اس موقع پر امام جماعت احمدیہ کو نوٹس آخر کس عقلمندی کا نتیجہ تھا ؟ درد صاحب ان سے ملے تو اُنہوں نے بتایا کہ اصل میں ہمیں دھوکا دیا گیا تھا۔پہلے ڈپٹی کمشنر نے چیف سیکرٹری کو فون کیا کہ کی احمدی لوگوں کو باہر سے بلوار ہے ہیں اور ضرور فساد ہو جائے گا۔اس پر گورنر نے سی۔آئی۔ڈی کی سے دریافت کیا اس کے پاس آپ کی وہ چٹھی پہنچ چکی تھی جس میں لکھا تھا کہ لوگوں کو باہر سے بلانے والی چٹھی منسوخ کر دی گئی ہے۔آئی۔جی نے درد صاحب سے بیان کیا کہ ہی۔آئی۔ڈی کی والوں نے وہ چٹھی مسل کے ساتھ شامل کر دی مگر جو افسر وہ مسل دینے کے لئے آیا وہ زبانی یہ کی کہہ گیا کہ احمدیوں نے آدمی بلوانے والی چٹھی کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا۔حکومت نے اس مسل کو دیکھے بغیر اس افسر کی زبان پر اعتبار کر کے نوٹس جاری کر دیا بعد میں جب آپ نے احتجاج کیا اور اس پٹھی کو دیکھا گیا تو اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ پہلی چٹھی منسوخ کر دی گئی ہے۔اس زمانہ میں بعض افسروں نے ہمیں بھی اور حکومت کو بھی دھوکا دینا چاہا۔ہمارے تو وہ مخالف تھے اس لئے دینا ہی تھا اور ہم ان کے دھوکا میں آئے بھی نہیں لیکن مشکل گورنمنٹ کے لئے تھی۔ایک طرف تو وہ ان دھوکا دینے والے افسروں کی حفاظت کرنا چاہتی تھی اور دوسری طرف ان کے جھوٹوں کی وجہ سے اسے ندامت اُٹھانی پڑتی تھی اور وہ ایسی مصیبت میں مبتلا تھی کہ کوئی جواب نہ بن پڑتا تھا اور اب اگر جلسہ ہو تو معلوم نہیں حکومت اب کیا جواب دے سکے گی ؟