خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 222

خطبات محمود ۲۲۲ سال ۱۹۳۹ء دس روپیہ سے زیادہ کسی سے نہ لیا جائے۔ایک آنہ سے کم کسی سے نہ لیا جائے اور دس روپیہ سے زیادہ۔اور جو لوگ ایک آنہ بھی نہ دے سکیں ان کی طرف سے وہ لوگ ادا کریں جو دس روپے سے زیادہ دینا چاہتے ہیں۔ہم تو کسی سے دس روپیہ سے زیادہ نہیں لیں گے لیکن جو زیادہ دینا چاہیں وہ اپنے غریب بھائیوں کی طرف سے دے دیں یہ بھی ثواب حاصل کرنے کا ایک طریق ہے۔اس طرح جو غریب نہیں دے سکتا اُسے بھی ثواب مل جائے گا اور ان کو خدا تعالیٰ کے بندہ کا دل رکھنے کا ثواب بھی مل جائے گا۔پس جو لوگ گھر کے ہر فرد کی طرف سے ایک آنہ دے سکیں وہ دے دیں مگر جو زیادہ دینا چاہیں وہ دس روپیہ تک دے سکتے ہیں اور جو اس سے بھی زیادہ دینا چاہیں وہ اپنے غریب بھائیوں کی طرف سے دے دیں۔جو لوگ ایک آنہ بھی نہ دے سکیں ان کی بھی ایک فہرست بنالی جائے اور پھر جو زیادہ دینا چاہیں وہ ایسے لوگوں کی طرف سے دے دیں۔قادیان اور اس کے اردگرد کی احمدی آبادی دس بارہ ہزار ہے۔ضروری نہیں کہ اُن میں سے ہر شخص ایک آنہ ہی دے بہت سے ایسے ہیں جو زیادہ دیں گے جیسا کہ میں نے بتایا ہے میرے خطبہ کوسُن کر ایک عورت نے دوسور و پیہ کا زیور دے دیا تھا۔بعض مردوں نے بھی اصرار کیا تھا کہ ان سے دس روپیہ سے زیادہ منظور کیا جائے اور باہر سے بھی بعض نے دس روپیہ سے زیادہ بھیج دئے تھے اور جب اُن کو لکھا گیا کہ اس تحریک میں دس روپیہ سے زیادہ نہیں لئے جاسکتے تو اُنہوں نے لکھا کہ ہمارے خاندان کے اتنے افراد ہیں ان کی طرف سے محسوب کر لیا جائے تو میں سمجھتا ہوں جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جوش ہے ان مقامات مقدسہ کی وسعت میں حصہ لینے کا جنہیں اللہ تعالیٰ نے دُنیا کے لئے دائمی برکات کا موجب بنایا ہے۔جماعت ان کی قدر و منزلت کو بخوبی بجھتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اس تحریک میں اپنے حوصلہ اور ہمت کے مطابق ضرور حصہ لے گی۔پس قادیان اور ملحقہ جماعتوں سے آئندہ جمعرات کے روز چندہ اکٹھا کیا جائے اور باہر کی جماعتوں سے بھی ، خدام الاحمدیہ ، انصار اللہ یا دوسرے لوگ کوشش کر یں پہلے اپنی اپنی جماعت کے تمام افراد کا اچھی طرح جائزہ لے لیں اور پھر ایک ہی دن سب جماعت نکل کھڑی ہو اور ہر ایک سے کم سے کم ایک آنہ وصول کرے حتی کہ بچوں سے بھی لیا جائے خواہ