خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 223

خطبات محمود ۲۲۳ سال ۱۹۳۹ء کوئی بچہ ایک دن ، ایک گھنٹہ یا ایک سیکنڈ کا ہی کیوں نہ ہو اُس کے والدین اُس کی طرف سے بھی ادا کی کریں اور جو ایک آنہ بھی نہ دے سکتے ہوں اُن کی طرف سے دوسرے جو زیادہ دینا چاہتے ہوں دے دیں۔جو آسودہ حال لوگ خواہش رکھتے ہوں کہ زیادہ دیں انہیں اس قانون سے تو مستی نہیں کیا جاسکتا ہاں وہ اپنے غریب بھائیوں کی طرف سے دے سکتے ہیں۔پس قادیان ،ننگل ، بھینی ، کھارا، احمد آباد، قادر آباد میں سے اگلی جمعرات کو چندہ وصول کیا جائے۔اس کام کے لئے وفد مقرر کر دیئے جائیں۔ایک وفد تو وصولی کے لئے ہوا اور دوسرا یہ دیکھنے کے لئے کہ وصولی صحیح طور پر ہوگئی ہے اور جو نہ دے سکے اُسے چھوڑیں نہیں بلکہ اُس کا نام بھی ضرور لکھ لیں اور ساتھ لکھ دیں کہ غربت کی وجہ سے نہیں دے سکا یا نہیں دینا چاہتا۔تاہم اس کی طرف سے ادا کرا دیں اور اس طرح وہ لوگ بھی جو نہیں دے سکتے یا جنہوں نے نہیں دیا ثواب سے محروم نہ رہ جائیں۔جس شخص کو توفیق ہے اور وہ نہیں دیتا وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور اگر ہم اس کی طرف سے دے دیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کا گناہ معاف کر کے آئندہ اسے نیکی کے کام میں شامل ہونے کی توفیق دے دے گا۔پس جو نہیں دیتا یا نہیں دے سکتا دونوں کے نام لکھ لئے جائیں اور ہم کوشش کریں گے کہ دوسروں کی طرف سے وہ کسر پوری ہو جائے اور ان کا خانہ خالی نہ رہے۔یہ تو مساجد کے متعلق پہلی بات تھی دوسرا امر جو خالص جماعت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہ تحریک جدید کا چندہ ہے اس کے اعلان پر چھ ماہ گزر چکے ہیں نومبر ، دسمبر، جنوری، فروری، مارچ ، اپریل۔اس وقت تک ایک لاکھ چھبیس ہزار سے زیادہ کے وعدے آچکے ہیں اور ہندوستان سے باہر کی جماعتیں ابھی باقی ہیں۔خیال ہے کہ گل وعدے ایک لاکھ انتیس ،تمہیں ہزار کے ہو جائیں گے اس چھ ماہ کے عرصہ میں اگر باہر کے چندے نکال بھی دیئے جائیں تو ایک لاکھ دس ہزار کے قریب ہندوستان کے وعدے ہوں گے جس میں سے نصف یعنی پچپن ہزار کے کی قریب اب تک وصول ہو جانا چاہئے تھا مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت تک صرف چوبیس ہزار کے قریب روپیہ آیا ہے۔جو گویا وعدوں کا پانچواں حصہ ہے حالانکہ چھ ماہ گزر چکے ہیں اگر مجھے معلوم ہوتا کہ جو بلی فنڈ میں چندے دینے کی وجہ سے یہ تاخیر ہو رہی ہے تو میں سمجھتا یہ