خطبات محمود (جلد 20) — Page 183
خطبات محمود ۱۸۳ سال ۱۹۳۹ ء اور بعض بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ سے کی دُعا سکھائی ہے کہ یا اللہ روحانی جوانی آنے کے بعد پھر بڑھا پا نہ آئے ۔ کیونکہ جو اچھے دن دیکھ چکا ہو اُس کے لئے خرابی کے دن بہت تکلیف کا موجب ہوتے ہیں ۔ اسی طرح خدا تعالیٰ سے ایک دفعہ تعلق ہونے کے بعد اس سے دوری بہت زیادہ افسوس کا موجب ہوتی ہے۔ مجھے جماعت کے ایک آدمی کا علم ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت اچھا مخلص تھا اور قربانی کا بھی اسے موقعہ ملا مگر اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی شامت مقدر تھی اور اس نے آخری زمانہ میں چندہ بلکہ نمازیں بھی چھوڑ دیں اور اگر کوئی نصیحت کرتا تو کہتا کہ ہم نے بڑی قربانیاں کی ہیں اب کوئی ضرورت نہیں ۔ تو یہ روحانی بڑھاپا ہوتا ہے اور زبانی دعوے کرنے والے دراصل اپنی روحانی کمزوری کا اظہار کرتے ہیں ۔ مومن جو کچھ منہ سے کہتا ہے اُس سے زیادہ کر کے دکھاتا ہے مگر میں نے دیکھا ہے کہ مجلس شوری یا تحریک جدید میں بعض لوگ بڑی بڑی باتیں بناتے ہیں مگر بعد میں ایسے خاموش ہو جاتے ہیں کہ کوئی وجہ بھی سمجھ میں نہیں آتی ۔ بعض تو بے شک اخلاص سے جو قربانی کرنی ہوتی ہے کر دیتے ہیں اور جو وعدہ کرتے ہیں اُس کے ایسے پابند ہوتے ہیں کہ یاد دہانی کی بھی ضرورت نہیں ہوتی لیکن بعض زبانی دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن انہیں پورا نہیں کرتے ۔ پس مومن کو چاہئے کہ اپنے نفس کا مطالعہ کرتا رہے اگر تو اُس کے زبانی دعوے زیادہ ہیں اور عمل سست ہے تو وہ سمجھ لے کہ روحانی بڑھا پا شروع ہو چکا ہے یا جوانی آئی ہی نہیں اور ایسے لوگ یاد رکھیں کہ وہ جماعت کی طاقت کا موجب نہیں ہوتے بلکہ اُس کی کمزوری کا موجب ہوتے ہیں ۔ ہر سال مجلس شوری اور تحریک جدید کے اعلان کے موقع پر میں نے تجربہ کیا ہے کہ کچھ لوگ زبانی دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر عمل میں بہت کمزوری دکھاتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دعووں کی وجہ - ن کے دعووں کی وجہ سے بسا اوقات اندازے غلط ہو جاتے ہو جاتے ہیں ۔ مجلس شوری جب ختم ہوتی ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب تمام مالی مشکلات دور ہو جائیں گی مگر اُن کے جانے کے بعد کچھ پتہ ہی نہیں رہتا کہ وہ وعدے کہاں گئے ؟ اور وعدے کرنے والے کہاں گئے؟ اسی طرح تحریک جدید میں میں دیکھتا ہوں ایک بڑا حصہ تو بے شک اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا ہے