خطبات محمود (جلد 20) — Page 184
خطبات محمود ۱۸۴ سال ۱۹۳۹ء لیکن ایک حصہ ایسا بھی ہے جو اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتا اور وعدہ کرنے کے بعد ایسا خاموش ہو جاتا ہے کہ گویا اُس نے کوئی وعدہ کیا ہی نہ تھا اور جب میں سیکرٹریوں سے پوچھتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ دس دس خط لکھے ہیں لیکن کسی کا جواب نہیں آیا۔جب میں دوبارہ اعلان کرتا ہوں تو پھر ان کی پچٹھیاں آنے لگتی ہیں کہ ہمارا وعدہ قبول کر لیا جائے اور گزشتہ وعدوں کے متعلق بعض تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم سے کسی نے مانگاہی نہیں یا بعض کہ دیتے ہیں کہ ہمیں کسی نے یاد نہیں کرایا، بعض کہتے ہیں کہ پچھلی مرتبہ بڑی غلطی ہو گئی اب ہم پچھلا بھی پورا کریں گے اور اس سال کا بھی۔حالانکہ جب میں کہتا ہوں کہ جو چاہے وعدہ کرے اور جو چاہے نہ کرے تو خواہ مخواہ گنہ گار بننے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر وہ وعدہ کرتے وقت تو کہتے ہیں کہ اگر یہ قبول نہ کیا گیا تو ہم صدمہ سے ہی مر جائیں گے اور اس قدر اصرار کرتے ہیں کہ ہم بھی دھو کے میں آ جاتے ہیں اور خیال کر لیتے ہیں کہ شاید ان کے اندر ندامت پیدا ہو چکی ہے مگر اگلے سال پھر وہی حالت ہوتی ہے۔ایسے لوگ ساری زندگی وعدہ کرنے میں ہی سمجھتے ہیں ان کے پورا کرنے میں نہیں۔تو میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ صرف وعدے کرنا اور جوش دکھا نا روحانی بڑھاپے کی علامت ہے یا اس امر کی کہ ان پر جوانی آئی ہی نہیں بلکہ بچپن ہی کا زمانہ لمبا ہو رہا ہے اور اس حالت پر ان کو خوش نہیں ہونا چاہئے۔قربانی کے مطالبہ پر ان کے اندر ایک جوش پیدا ہوتا ہے اور وعدے کر لیتے ہیں مگر پورا کرنے کے وقت کئی مشکلات اُن کے سامنے آجاتی ہیں۔یہ خطر ناک علامت ہے اور اس کی بات کا ثبوت ہے کہ وہ بیمار ہیں انہیں چاہئے کہ اپنا علاج کریں ورنہ ایسے گڑھے میں گریں گے کہ جہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی اور اگر چہ ان کی طبیعت میں جوش تو آتا ہے مگر وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ایسی بات کہنی چاہئے جسے پورا کر سکیں اور پھر جب وعدہ کر لیتے ہیں تو خواہ کیسی مشکلات پیش آئیں اُسے پورا کر کے چھوڑتے ہیں۔تو سمجھ لیں کہ ان کے اندر روحانیت موجود ہے جسے بڑھانے سے وہ اس مقام پر پہنچ سکتے ہیں کہ جہاں پہنچ کر انسان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو سکتا ہے۔اس سال میں جماعت کو خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں آج مجلس شوری کا آغاز ہوگا اور انہیں یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں یہ ایک دو سال جماعت پر