خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 182

خطبات محمود ۱۸۲ سال ۱۹۳۹ء اور ایسے ایسے دعوے کرتے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ایک دفعہ مجلس شوریٰ میں ایک شخص نے تقریر کی کہ جماعت میں فلاں فلاں کمزوریاں پائی جاتی ہیں ہمیں ان کا اس اس طرح مقابلہ کرنا چاہئے۔ہمیں یہ کرنا چاہئے ، وہ کرنا چاہئے۔اُس وقت اس جماعت کے جس کا وہ فرد تھا ایک بزرگ وہاں بیٹھے تھے اُس شخص کے بعض سوالات تھے جن کے متعلق میں نے اس بزرگ سے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ اس شخص نے چھ سال سے کوئی چندہ نہیں دیا۔تو ایسے دعوے ایمانی کمزوری کی علامت ہوتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول طب کے متعلق ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ ایک مشہور طبیب کے پاس ایک دفعہ ایک بوڑھا شخص آیا اور اُس نے کہا کہ مجھے کھانسی کی شکایت ہے۔وہ شخص بہت بوڑھا تھا۔ایسا بوڑھا جسے گور کے کنارے کہا جاتا ہے۔طبیب نے اُسے کہا کہ آپ کی یہ کھانسی عمر کا تقاضا ہے کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اب اُس کی کھانسی کے علاج کا وقت نہیں۔اس پر اُس نے کہا کہ کچھ حرارت بھی رہتی ہے۔طبیب نے کہا یہ بھی تقاضائے عمر ہے۔اُس نے کہا کہ قبض بھی رہتی ہے۔طبیب نے کہا کہ یہ بھی عمر کا تقاضا ہے۔پھر اُس نے کہا کہ مجھے کھانا نہیں ہضم ہوتا اور اس پر بھی طبیب نے یہی کہا کہ یہ بھی عمر کا تقاضا ہے۔اس نے کہا نیند نہیں آتی اور طبیب نے پھر یہی کہا کہ یہ بھی عمر کا تقاضا ہے۔اس نے کی اسی طرح پانچ سات بیماریاں بتائیں اور طبیب نے ہر ایک کے متعلق یہی جواب دیا۔اس پر بوڑھا بے تحاشا گالیاں دینے لگا اور کہنے لگا کہ بڑے طبیب بنے پھرتے ہو طبیب عقلمند تھا اُس نے اُن گالیوں پر بھی یہی جواب دیا کہ یہ بھی تقاضائے عمر ہے۔تو اس قسم کی حالتیں انسانی کمزوری کی کی دلیل ہوتی ہیں۔منہ کے دعوے اپنے اندر کوئی خوبی نہیں رکھتے۔ایسے دعوؤں سے بسا اوقات لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ بڑا مفید وجود ہے لیکن یہ صیح نہیں۔حقیقتاً ایسے دعوے کمزوری کی علامت کی ہوتے ہیں طاقت کی علامت نہیں۔اس بوڑھے کا حکیم کو گالیاں دینا اس کی کسی طاقت کی وجہ سے نہ تھا بلکہ بڑھاپے کی کمزوری کی وجہ سے تھا۔روحانی جماعتوں میں جو لوگ ایسے دعوے کرتے ہیں اُن میں بھی روحانی طور پر بڑھاپا ہوتا ہے یا پھر اُن پر جوانی آئی ہی نہیں ہوتی۔وہ ہمیشہ بچے ہی رہتے ہیں۔بعض لوگ ہمیشہ بچے ہی رہتے ہیں اور اُن پر جوانی آتی ہی نہیں