خطبات محمود (جلد 20) — Page 181
خطبات محمود ۱۸۱ سال ۱۹۳۹ء سر پر پاؤں رکھ کر ایسے بھاگے کہ اُن کو پتہ ہی نہ رہا کہ کدھر جا رہے ہیں؟ اُن کے بھاگنے کی وجہ سے صحابہ کے اونٹ اور گھوڑے بھی ڈر کر ایسے بھاگے کہ بے قابو ہو گئے اور اس لئے صحابہ بھی کی بغیر ارادہ کے بھاگنے لگے یا یہ نظارہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے دکھایا کہ تا بتائے کہ روحانی جوانی کی اور بڑھاپے میں کیا فرق ہے؟ نئے داخل ہونے والوں میں بڑ مارنے کی عادت تھی مگر صحابہ میں یہ بات نہ تھی۔منہ کی بکو اس اُن لوگوں میں ہوتی ہے جن میں روحانی جوانی نہیں ہوتی۔ایسے ہی لوگوں میں اپنی طاقت پر گھمنڈ اور غرور ہوتا ہے۔پس ہماری جماعت میں سے ہر شخص انفرادی طور پر اس معیار کے مطابق اپنی ایمانی حالت کا اندازہ کر سکتا ہے جو دیکھے کہ اس کے اندر غرور اور تکبر ہے، وہ سمجھ لے کہ اُس کی روحانیت کمزور ہے اور اُس پر بڑھاپے کی کیفیت ہے۔بڑھاپے میں عقل خراب ہو جاتی ہے ، جسمانیت میں بعض اوقات ایسے بوڑھے لوگ بھی جن کے ہاتھ رعشہ سے کانپ رہے ہوتے ہیں ، طاقت بالکل جواب دے چکی ہوتی ہے مگر غصہ آتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم بتا دیں گے، ہڈیاں چبالیں گے۔حالانکہ ان سے کھڑا بھی نہیں ہوا جاتا۔یہ جنون کی حالت ہے جس کے اندر یہ حالت پیدا ہو وہ سمجھ لے کہ اُس کے اندر روحانی زندگی باقی نہیں۔جس کے اندر زندگی موجود ہو وہ کام کیا کرتا ہے، زبانی دعوے نہیں کیا کرتا۔اس کے اندر انکسار ہوتا ہے وہ اپنی طاقت اور اُس کی حدود کو سمجھتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ جو کچھ کرنا ہے اللہ تعالیٰ نے ہی کرنا ہے میرے اندر جو طاقت ہے وہ بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی طاقت کا انعکاس ہے۔کیا پتہ ہے کہ اگر میں کام کرنے لگوں تو اللہ تعالیٰ اپنا منہ مجھ سے پھیر لے اور میں اُس کے مقابل نہ رہوں۔اس لئے وہ کبھی گھمنڈ اور غرور نہیں کرتا کیونکہ گھمنڈا اپنی چیز پر ہوتا ہے لیکن جو سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ گھمنڈ کیسے کر سکتا ہے؟ پس مومن کو ہمیشہ جھوٹے وعدوں سے بچنا چاہئے کہ یہ قوم کی تباہی کا موجب ہوتے ہیں۔ان کی وجہ سے بسا اوقات قوم ایسا اقدام کر بیٹھتی ہے کہ جو اس کی طاقت سے باہر ہوتا ہے۔ایسے لوگ ہمیشہ کام کو خراب کرنے والے ہوتے ہیں۔میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ مجلس شوریٰ کے موقع پر یا جب میں تحریک جدید کا اعلان کرتا ہوں تو بعض لوگ ایسے وعدے کر دیتے ہیں