خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 180

خطبات محمود ۱۸۰ سال ۱۹۳۹ء اس بات کا کہ وہ خدا تعالیٰ کی جماعت تھے۔جسمانی جوانی کے وقت انسان دوسری طاقتوں کو کی بھول جاتا ہے اور متکبر اور خود پسند ہو جاتا ہے لیکن روحانی طاقت جتنی بڑھتی ہے اُتنا ہی زیادہ انکسار بڑھتا ہے۔روحانیت کی جوانی عرفان سے وابستہ ہوتی ہے اس لئے وہ انسان کے اندرا نکسار کو بڑھاتی ہے۔اس کا تجربہ جوانی میں بڑھتا ہے مگر جسمانی نشو ونما کا تجربہ بڑھاپے میں بڑھتا ہے۔روحانیت میں وہ کیفیتیں جوانی میں پیدا ہوتی ہیں جو جسمانیت میں بڑھاپے میں ہوتی ہیں۔جسمانی طور پر جو شخص جو ان ہو اس کے اندر خود پسندی اور تکبر پیدا ہوتا ہے لیکن روحانی کی طور پر جو جماعت بوڑھی ہو جائے اُس کے اندر یہ کیفیتیں پیدا ہوتی ہیں۔جسمانی طور پر جو کمزور ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ دُنیا میں اور اثرات بھی ہیں جو دُنیا میں کام کر رہے ہیں۔کوئی بالا طاقت ہے جو کام کر رہی ہے اور دُنیا میں جو نتائج پیدا ہو رہے ہیں وہ صرف میرے کاموں سے ہی نہیں اس میں میرے دوستوں بلکہ دشمنوں کا بھی دخل ہے۔اس میں اتفاقات کا بھی خواہ وہ صحیح ہوں یا غلط دخل ہے ،سورج اور چاند کے اثرات کا بھی دخل ہے، ماحول کا بھی اثر ہے، حکومت کا بھی اثر ای ہے لیکن جوان ان سب باتوں کو نظر انداز کر دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جو میں چاہوں گا وہی ہو جائے گا مگر روحانی سلسلوں کی حالت اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔جوانی کے وقت میں ان کی نظریں وسیع ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ پر ان کا تو کل بڑھا ہوا ہوتا ہے، انہیں اپنی قوتوں کا صحیح اندازہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری کوششوں سے کچھ نہیں ہوسکتا۔دُنیا میں جو تغیر پیدا وسکتے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہو سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کی حالت ایسی انکساری کی تھی کہ اُن کے نفس بالکل مرے ہوئے تھے لیکن جب یزید کے وقت میں ان کے اندر اضمحلال کے اثرات پیدا ہوئے تو اُن کے مُنہ سے ایسے ایسے اقوال سُننے میں آئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔کبھی کبھی روحانی جماعتوں میں بھی ایسے دورے ہوتے ہیں مگر وہ عارضی ہوتے ہیں۔مکہ کے لوگ اسلام میں نئے نئے داخل ہوئے تھے اس لئے اُن پر ابھی کی روحانی لحاظ سے جوانی نہ آئی تھی اور وہ اس سے کورے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنگ پیش آگئی اُنہوں نے کہا کہ ہم بھی اس میں شریک ہوں گے اور بتا ئیں گے کہ ہم کیسے بہادر ہیں لیکن جب جنگ شروع ہوئی اور دشمن نے دوطرف سے تیر برسانے شروع کئے تو وہ کی