خطبات محمود (جلد 20) — Page 10
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء کے لوگوں کے لئے عموماً ۱۹۳۹ ء اور ۱۹۴۰ ء مالی لحاظ سے امتحان کے سال معلوم ہوتے ہیں کیونکہ اس میں اتنی چندہ کی تحریکیں ہوئی ہیں کہ شائد اس سے پہلے جماعت میں کبھی بھی اتنی کی تحریکیں نہیں ہوئیں۔ماہانہ چندوں کی با قاعدہ ادائیگی بلکہ ان میں زیادتی کا اعلان مرکز سلسلہ کی طرف سے کیا جا چکا ہے اور بہت سے دوست اس میں زیادتی کی طرف مائل ہیں گو بہت سے مست بھی ہیں۔اسی طرح تحریک جدید کا چندہ علاوہ ان ماہانہ چندوں کے ہے۔پھر جماعت نے اپنی کی مرضی سے ایک خلافت فنڈ کھولا ہے جس کا زور بھی اسی سال پر پڑنا ہے۔اس کے علاوہ کی اللہ تعالیٰ نے ایک امتحان کی یہ صورت بھی پیدا کر دی ہے کہ مہینوں مہینے گزر چکے ہیں مگر بارش نہیں ہوئی۔ہماری جماعت کا اسی فیصدی حصہ زمینداروں کا ہے اور زمینداروں کے لئے یہ ایام بڑے ہی ابتلا کے ایام ہیں۔اُن کی خریف کی آمدنیاں صفر کے برابر رہی ہیں۔سوائے ان کے جن کی زمینیں نہری علاقوں میں ہیں۔اسی طرح اُن کی فصلِ ربیع بھی تباہ ہوتی نظر آتی ہے اور اگر خدا تعالیٰ کا فضل بارش کی صورت میں نازل نہ ہو تو اس کی صورت بھی بہت خطر ناک ہے۔میں چونکہ خود زمیندار ہوں اس لئے میں زمینداروں کی اس حالت کو خوب سمجھتا ہوں۔شہری لوگ اس بات کا اندازہ نہیں کر سکتے کہ زمینداروں کی پچھلی فصل کیسے گزری ہے اور آگے اُن کے لئے رکس قسم کے خطرات ہیں۔میری اپنی ایک جگہ اڑتالیس ایکڑ زمین کاشت تھی اور دو کنویں بھی اس میں تھے مگر کل آمد اسی روپے ہوئی ہے اور اسی آمد میں سے ہی سرکاری لگان بھی ادا کرنا ہے جو سُنا گیا ہے کہ سو سے بھی زائد ہے۔حالانکہ کنوئیں بھی اس زمین میں ہیں اور میں سمجھتا ہوں اگر اس زمین میں یہ دو کنوئیں نہ ہوتے تو کل آمد چار آنے یا دو آنے فی ایکٹر بنتی۔تو بارانی زمینوں والے آج کل نہایت خطرناک حالت میں ہیں۔گورداسپور ، سیالکوٹ اور گجرات کا علاقہ جہاں ہماری جماعتیں زیادہ تعداد میں پائی جاتی ہیں بارانی علاقہ ہے۔اس کے مقابلہ میں لائل پور اور سرگودھا گو چندہ کے لحاظ سے ان ضلعوں سے بڑھ جائیں یا جلسہ سالانہ پر