خطبات محمود (جلد 20) — Page 11
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء ان علاقوں کے لوگ زیادہ تعداد میں آجائیں کیونکہ نہری علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے زمینداروں کی مالی حالت عموماً اچھی ہے مگر اصل جماعت کا پھیلا ؤ گورداسپور، سیالکوٹ ، ہوشیار پور، جالندھر اور گجرات کے ضلعوں میں ہے۔یہ گویا پانچ ضلعے ہیں جہاں جماعت اچھی خاصی تعداد میں پھیلی ہوئی ہے۔باقی اضلاع جس قدر ہیں وہ ان سے اُتر کر ہیں۔اس میں کوئی طلبہ نہیں کہ اور بھی ایسے اضلاع ہیں جہاں احمدی معقول تعداد میں پائے گی جاتے ہیں مثلاً شیخو پورہ اور گوجرانوالہ۔یہاں اچھی جماعتیں ہیں مگر بہر حال یہ ان پانچ ضلعوں سے اتر کر ہی ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جماعت کے افراد کی کثرت جالندھر میں بھی نہیں۔صرف کی جالندھر کے اتنے حصہ میں ہماری جماعت کے لوگ زیادہ پائے جاتے ہیں جو ہوشیار پور سے ملتا ہے۔اس لحاظ سے جماعت کا اصل پھیلاؤ ہوشیار پور میں ہی ہے جالندھر میں نہیں۔گویا گورداسپور ، ہوشیار پور، گجرات اور سیالکوٹ یہ چار ضلعے ایسے ہیں جہاں ہماری جماعتیں کثرت کی سے پائی جاتی ہیں اور یہ چاروں ضلعے ایسے ہیں جن کے زمینداروں کا تمام تر انحصار بارش پر ہے اور اب ایک لمبے عرصہ تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے مالی طور پر ان کی حالت اتنی خطرناک ہے کہ انسان یہ بھی نہیں سمجھ سکتا کہ وہ روٹی کہاں سے کھا رہے ہیں۔گویا جہاں اور کئی قسم کے ابتلا تھے وہاں ایک آسمانی ابتلا بھی آ گیا۔بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا امتحان لینا چاہتا ہے اور وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میرا بندہ کس قدر برداشت کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہے۔جب انسان اس ابتلا کو برداشت کر لیتا ہے اور دنیا پر ظاہر کر دیتا ہے کہ اس کی محبت اپنے رب سے اور اس کا ایمان اپنے خدا پر اتنا مضبوط ہے کہ وہ کسی ابتلا سے نہیں ٹوٹ سکتا تو اللہ تعالیٰ کے فضل اس پر بارش کی طرح برسنے لگ جاتے ہیں۔گویا ابتلا کی مثال ایسی ہی ہے جیسے مائیں بعض دفعہ اپنے بچے کو ڈراتی ہیں اور جب وہ ڈر کر رونے لگتا ہے تو اسے گلے سے لپٹا کر آپ بھی رونے لگ جاتی ہیں۔مؤمن کے ابتلا کی بھی ایسی ہی مثال ہے۔بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو ڈراتا ہے مگر جب وہ ابتلاؤں سے گھبراتا نہیں بلکہ قربانی کرتا چلا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اسی طرح اپنے گلے سے لپٹا لیتا ہے جس طرح ماں اپنے بچے کو گلے سے لپٹا لیتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ