خطبات محمود (جلد 20) — Page 521
خطبات محمود ۵۲۱ سال ۱۹۳۹ء ہمت والے کا کام ہے بلکہ اگر کوئی نہ اُٹھے تو وہ کہتا ہے کہ یہ امر میری سستی پر دلالت کرتا ہے اور مجھے اس بات کا احساس ہے کہ مجھے اُٹھنا چاہئے۔تو رمضان نے ہمیں جو سبق سکھایا ہے ہمیں اس سبق کو یا د ر کھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور نہ صرف تہجد پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہئے بلکہ مختلف اوقات میں نفلی روزے بھی رکھنے چاہئیں۔اب کی دفعہ تو کچھ نفلی روزے اس مہینہ میں ہی آگئے ہیں جو میں نے دُعاؤں کے لئے مقرر کئے کی ہیں مگر اس کے علاوہ بھی روزے رکھتے رہنا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ آپ نفلی روزے رکھتے رہتے تھے۔اوّل تو رمضان کے ہی بعض روزے رہ جاتے ہیں جنہیں دوسرے اوقات میں رکھنا ضروری ہوتا ہے مگر میں نے دیکھا ہے نماز کی پابندی کا تو لوگ خاص طور پر خیال رکھتے ہیں اور اگر ایک وقت کی نماز رہ جائے تو دوسرے وقت کی نماز کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے ہیں لیکن رمضان کے روزے اگر رہ جائیں تو وہ بہت کم رکھے جاتے کی ہیں۔اس طرح بھی ہر انسان کے ذمہ کافی حساب جمع ہوتا رہتا ہے اگر انسان رمضان کے علاوہ بھی روزے رکھتا رہے تو اس قسم کی کمی بآسانی پوری کر سکتا ہے۔عورتوں کے لئے خصوصاً زیادہ مشکل ہوتی ہے کیونکہ بعض ایام ان پر ایسے آتے ہیں جن میں روزہ رکھنا ان کے لئے جائز نہیں ہوتا بعض دفعہ بیمار ہو جاتی ہیں اور بعض دن گو بظا ہر ایا م صحت ہوتے ہیں مگر چونکہ روزہ کا مضر اثر ان کی یا ان کے بچہ کی صحت پر پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے ان دنوں میں وہ روزہ نہیں رکھتی سکتیں۔جیسے ایام حجمل ہیں یا رضاعت کے دن ہیں۔ان دنوں میں روزہ رکھنے سے چونکہ بچہ کی صحت کو نقصان پہنچتا ہے اس لئے شریعت انہیں رخصت دے دیتی ہے مگر بہر حال یہ روزے اور دنوں میں رکھنے ضروری ہوتے ہیں جس کی طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔اگر انسان نفلی روزے رکھنے کا عادی ہو تو پہلے وہ فرض روزے رکھے گا اور فرض روزوں کی ادائیگی میں اگر کوئی کی کمی رہ جائے گی تو اسے نفلی روزے پورا کر دیں گے۔پس ہمیں رمضان کے بعد نفلی روزوں کی کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ آپ ہر جمعرات اور پیر کو روزہ رکھا کرتے اور حدیثوں سے تو پتہ چلتا ہے کہ بعض ایام میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم متواتر نفلی روزے رکھا کرتے تھے اور آپ کو دیکھ کر نفلی روزے رکھنے ھے