خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 520

خطبات محمود ۵۲۰ سال ۱۹۳۹ء اُٹھنا چاہیں تو اُٹھ سکتے ہیں، دوسری بات جو سوچنے والی ہے یہ کہ آخر بچے بھی تو رمضان کی میں سحری کے وقت اُٹھتے ہیں۔ہم نے تو دیکھا ہے بچوں کوسختی سے روکنا پڑتا ہے ورنہ وہ روتے ہیں اور کہتے ہیں ہم بھی روزہ رکھیں گے اور خواہ انہیں نہ جگایا جائے رمضان میں سحری کے وقت ان کی آنکھ ضرور کھل جاتی ہے۔پس ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ دوسرے ایام میں تو بڑوں کی بھی آنکھیں نہیں کھلتیں اور رمضان میں بچوں کی بھی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ رمضان میں کثرت سے لوگ تہجد کے لئے اُٹھتے ہیں اور جب کثرت سے لوگ اُٹھے ہوئے ہوں تو بچوں اور کمز ور لوگوں کی بھی شور سے آنکھیں کھل جاتی ہیں اور وہ بھی دوسروں کو کثرت سے تہجد پڑھتے دیکھ کر خود تہجد پڑھنے لگ جاتے ہیں۔اس سے ہمیں معلوم ہوا کہ جب کسی قوم میں کثرت سے نیکی کا کوئی کام ہورہا ہو تو کمز ور لوگوں کو بھی اس نیکی کے کرنے کی تحریک ہو جاتی ہے۔تہجد کو ہی لے اور مضان میں چونکہ کثرت سے لوگ تہجد پڑھتے ہیں اس لئے دوسروں کی بھی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان پر اٹھنا گراں نہیں گزرتا کیونکہ جب انسان دوسروں کو ویسا ہی کام کرتے دیکھتا ہے تو اس کی طبیعت سے بوجھ اتر جاتا ہے اور وہ بھی شوق سے اس میں حصہ لینے لگ جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابن عباس جو اس وقت چھوٹے بچے تھے آپ کے ہاں سوئے ہوئے تھے۔آپ کو تہجد کے لئے اُٹھتے دیکھا تو خود بھی اُٹھ کر تہجد کی نماز میں شامل ہو گئے۔گے حضرت ابن عباس کی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت تیرہ سال کی عمر تھی۔اگر آپ کی وفات سے تین چار سال پہلے کا یہ واقعہ سمجھا جائے تو آپ کو دس سال کے اس وقت ہوں گے۔غرض جب بڑے تہجد کے لئے اُٹھتے ہیں اُس وقت انہیں اٹھتے دیکھ کر بچوں کی بھی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور وہ بھی ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔پس دوسرا سبق رمضان سے ہمیں یہ ملا کہ اگر تہجد پڑھنے والوں کی کثرت ہو جائے تو کمزوروں کی کے لئے بھی اس عبادت کا بجالانا آسان ہو جاتا ہے۔ہاں جب تہجد پڑھنے والوں کی قلت ہو تو پھر دوسروں کے لئے اُٹھنا مشکل ہوتا ہے اور وہ جواب دے دیتے ہیں کہ یہ تو کسی ہمت والے کا کام ہے لیکن اگر عام طور پر لوگ تہجد کے لئے اُٹھتے ہوں تو پھر یہ نہیں کہتے کہ رات کو اُٹھنا کسی