خطبات محمود (جلد 20) — Page 522
خطبات محمود ۵۲۲ سال ۱۹۳۹ء کے متعلق صحابہ میں اس قسم کا جوش پیدا ہو گیا کہ ایک صحابی نے یہ عہد کیا کہ میں روزانہ روزہ رکھا کروں گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا یہ ٹھیک نہیں اس طرح تمہاری صحت کو نقصان پہنچے گا۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے اندر بہت طاقت ہے اور میں روزانہ روزہ رکھ سکتا ہوں۔آپ نے فرمایا بے شک تم میں اس وقت طاقت ہے مگر طاقت ایک عرصہ تک ہی چلتی ہے ہمیشہ انسان کے اندر ایک جیسی طاقت نہیں رہتی۔چنانچہ آپ نے خود فر مایا اگر نفلی روزے رکھنے کی تم میں بہت طاقت ہے تو ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کرو۔اس نے کہا یا رَسُول اللہ ! مجھ میں اس سے بھی زیادہ طاقت ہے۔آپ نے فرمایا اچھا ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن نہ رکھا کرو۔یہی صحابی جب بڑی عمر کے ہو گئے تو کہا کرتے تھے کہ کاش میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت سے فائدہ اُٹھا لیتا کیونکہ اب روزے رکھنے مجھ پر کمزوری کی وجہ سے گراں گزرتے ہیں۔مگر چونکہ میں نے خود ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس رنگ میں روزے رکھنے کی اجازت حاصل کی تھی اس لئے اب کی میں چھوڑ نہیں سکتا ہے تو زیادہ سے زیادہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جو اجازت ہے وہ یہ ہے کہ ایک دن روزہ رکھا جائے اور ایک دن نہ رکھا جائے اور جو شخص اس طرح روزے رکھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صائم الدھر یعنی ہمیشہ روزہ رکھنے والا قرار دیا ہے۔کے مگر اس روایت کے یہ معنے نہیں کہ کبھی نفلی روزے یکے بعد دیگرے رکھنے جائز نہیں۔یہ اس شخص کے لئے حکم ہے جو ہمیشہ روزے رکھنا چاہے لیکن اگر کوئی شخص ایسا نہ کرتا ہو۔ہاں کبھی کبھی پندرہ سولہ دن کے اکٹھے روزے رکھ لیتا ہو تو اس کے لئے ان ایام میں روزانہ روزے رکھنا جائز ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہ ثابت ہے کہ آپ بعض دفعہ پندرہ پندرہ ہیں ہمیں دن مسلسل نفلی روزے رکھتے چلے جاتے۔ہاں یہ جائز نہیں ہوتا کہ بغیر سحری کھائے یا بغیر افطار کئے مسلسل روزے رکھے جائیں۔مثلاً افطاری تو کی مگر شام کا کھانا نہ کھایا اور سحری کھا کر دوسرا روزہ رکھ لیا۔یا سحری نہ کھائی اور یونہی روزہ رکھ لیا۔جسے ہمارے ملک میں آٹھ پہرہ روزہ کہتے ہیں۔اس قسم کے روزے متواتر رکھنے منع ہیں۔رمضان کے ایام میں اگر سحری کے وقت کسی کی آنکھ نہیں کھلتی تو اس وقت اس کے لئے روزہ چھوڑ نا جائز نہیں وہ