خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 519

خطبات محمود ۵۱۹ سال ۱۹۳۹ء فرض نمازوں کے علاوہ وہ تہجد اور دوسرے نوافل بھی ادا کرتا رہتا ہے تو قیامت کے دن جب اس کے فرض اعمال میں کمی واقع ہوگی اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا کہ اس بندے کا کچھ اور بھی کی حساب ہمارے ذمہ ہے لاؤ یہ کمی وہاں سے پوری کر دیں۔فرض زکوۃ میں کمی ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہمارا یہ بندہ صدقہ و خیرات بھی کرتا رہتا تھا اس کمی کو وہاں سے پورا کر دیا جائے۔فرض روزوں میں کسی قسم کی کوتاہی رہ گئی ہو گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہمارا یہ بندہ فرضی روزے ہی نہیں رکھتا رہا بلکہ نفلی روزے بھی رکھتا رہا ہے یہ کمی وہاں سے پوری کر دو۔حج میں کوئی نقص ہوگا کی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہمارے اس بندے نے ایک اور حج بھی کیا ہوا ہے وہاں سے اس کمی کو پورا کر دیا جائے۔غرض اگر یہ نوافل کا شوقین ہوگا تو اس کا حساب بجائے کم ہونے کے کچھ بڑھ ہی جائے گا اور اس زیادتی کی وجہ سے نہ صرف وہ اپنے حساب کو پورا کر دے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زائد انعامات کا بھی مستحق ہو جائے گا۔پھر ہم کو یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ رسول کریمی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں بندہ نوافل کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔سے ہی اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ فرائض انسان کو صرف دوزخ سے بچاتے ہیں اور جو شخص سزا سے بچ جائے اس کے متعلق یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ خدا تعالیٰ کا مقرب بھی بن سکے۔سزا سے بچ کر یہ اپنے لئے صرف اتنا حق قائم کر لیتا ہے کہ دوزخ میں نہ پڑے مگر اسے اس بات کا حق نہیں مل جاتا کہ خدا تعالیٰ کی مجلس میں بھی بیٹھ سکے۔خدا تعالیٰ کی مجلس میں آنے کا حق انسان کو نوافل سے ہی حاصل ہوتا ہے اور میں تو نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی شخص ایسا بھی ہو جو یہ کہے کہ میری عبادات کی صرف ایک ہی غرض ہے اور وہ یہ کہ میں جہنم میں نہ جاؤں۔اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچوں یا نہ پہنچوں مجھے اس کی پرواہ نہیں۔اگر کوئی شخص ایسا ہو تو اس کے متعلق سوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس کا دل محبت الہی سے بالکل خالی ہے۔تو یہ حدیث بھی بتاتی ہے کہ نوافل انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جانے والی چیز ہیں اور رحقیقت اعلیٰ روحانی کمالات انہی سے حاصل ہوتے ہیں۔فرضوں سے انسان صرف سزا سے بچتا ہے۔تو رمضان کے ایام میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر دو باتیں ظاہر کی ہیں ایک تو یہ کہ اگر ہم تہجد کے لئے