خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 518

خطبات محمود ۵۱۸ سال ۱۹۳۹ء پوری طرح ادا کر دی مگر قیامت کے دن اُسے معلوم ہوگا کہ اس کی فرض نمازوں کی ادائیگی کامل نہیں بلکہ ناقص ہے۔اسی طرح روزے انسان رکھتا ہی ہے مگر بعض دفعہ کئی قسم کی بے احتیا طیاں کی بھی ہو جاتی ہیں۔میں نے ایک گزشتہ خطبہ میں ہی بیان کیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے روزہ صرف اس امر کا نام نہیں کہ انسان بھوکا پیاسا رہے بلکہ اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان اور اپنے تمام جوارح کو قابو میں رکھے اور کوئی ایسی حرکت نہ کرے جو خلاف شریعت ہوئے اب فرض کرو ایک شخص روزہ تو رکھ لیتا ہے مگر کسی کو گالی دے دیتا ہے یا کسی سے جھگڑ پڑتا ہے یا کسی کی غیبت سُن لیتا ہے یا کسی کا شکوہ کرنے لگ جاتا ہے تو اپنی طرف سے تو وہ یہی سمجھ رہا ہو گا کہ میں نے روزہ رکھا ہے مگر خدا تعالیٰ کے حضور اس کا وہ روزہ نہیں ہوگا۔اب ممکن ہے وہ سمجھتا ہو کہ میں نے رمضان کے مہینہ کے تمہیں روزے رکھ لئے اور اپنے فرض کو کامل طور پر ادا کر دیا مگر قیامت کے دن جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو تو اُسے معلوم ہو کہ کسی سال کے اس کے ۲۹ روزے لکھے ہوئے ہوں، کسی سال کے ۲۸، کسی سال کے ۲۷ اور کسی سال کے ۲۶۔یہ تو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوتے ہی شوق سے پوچھے گا کہ میرے روزے کہاں ہیں جو میں نے ہر سال رکھے اور جن میں میں نے ایک کی بھی کمی نہیں آنے دی۔مگر جب اللہ تعالیٰ اپنا رجسٹر دکھائے گا تو اس میں اس کے کسی سال کے ۲۸ روزے لکھے ہوئے ہوں گے، کسی سال کے ۲۷ اور کسی سال کے ۲۶ اور اس طرح کئی مہینوں کے فرضی روزوں میں اسے کمی دکھائی دے گی۔حالانکہ اس کی نجات پورے تمہیں روزوں پر ہونی تھی۔اسی طرح ایک شخص حج کرتا ہے مگر اس سے کوئی نہ کوئی کوتا ہی ہو جاتی ہے۔اب اس کا حج تو ہو جاتا ہے مگر وہ حج ناقص ہوتا ہے۔حالانکہ اس پر جو حج فرض تھا وہ ناقص نہیں تھا بلکہ وہ حج تھا جو تمام شرائط کے ساتھ ادا کیا گیا ہو مگر یہ کوشش کے باوجود تمام شرائط کو پورا نہیں کر سکا اور اس طرح اس کا حج ناقص ہو گیا تو چاروں فرائض میں باوجود اپنی طرف سے پوری کوشش کرنے کے کوئی نہ کوئی نقص رہ سکتا ہے اور اس طرح نجات کے لئے انسان کو بعض اور نیکیوں کی احتیاج باقی رہتی ہے لیکن اگر خدا تعالیٰ کسی کو توفیق دیتا ہے اور وہ ایک حج کی بجائے دو حج کر لیتا ہے یا کسی کو اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے اور وہ فرض زکوۃ کے علاوہ اور دنوں میں بھی صدقہ و خیرات کرتا رہتا ہے یا کی