خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 368

خطبات محمود ۳۶۸ سال ۱۹۳۹ء خواہ مخواہ دُکھ دیتے ہیں اور ہمیں تباہ کرنا چاہتے ہیں۔بے شک ان کے پاس تو ہیں ہیں اور فوجیں ہیں مگر ہمارا خدا ان سے بہت زیادہ طاقتور ہے اور وہ تو کیا اگر ان کے ساتھ جرمنی، روس، فرانس غرضیکہ سب طاقتیں مل جائیں تب بھی وہ ہمیں تباہ نہیں کر سکیں گے کیونکہ ہم خدا تعالی کی جماعت ہیں۔اس کے بعد دیکھ لو برطانوی حکومت کو کس طرح تکلیف پر تکلیف اُٹھانی پڑی۔حبشہ کے معاملہ میں اسے زک ہوئی ، پھر سپین کے معاملہ میں ہوئی۔اب یہ خطرہ در پیش ہے۔اس میں طبہ نہیں کہ ہمارے خلاف شرارتیں بعض مقامی انگریزی افسروں نے کی تھیں مگر ذمہ داری اعلیٰ پر بھی آتی ہے بیشک وہ شرارتوں میں شامل نہ تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اسی نقطہ نگاہ سے دیکھا کہ اُنہوں نے اپنی ذمہ داری کو ادا کر کے ان کو سزائیں کیوں نہ دیں ورنہ انگریز جیسا کہ میں نے کہا ہے دوسری یوروپین قوموں سے بہت بہتر ہیں ابھی مجھے پچٹھی آئی ہے جو شاید ابھی چھپی نہیں کہ اٹلی کی حکومت نے بھی ہمارے مبلغ کو حکم دیا ہے کہ ۱۵ اگست تک اس ملک سے نکل جاؤ۔مولوی جلال الدین صاحب شمس کو جب اس کا علم ہو ا تو انہوں نے برطانوی حکومت کے پاس پروٹسٹ کیا اور کہا کہ ہمارے مبلغ کا اگر کوئی قصور تھا تو ہمیں اس کی اطلاع ہونی چاہئے۔لارڈز ٹلینڈ نے اس بارہ میں بہت ہمدردی سے کام کیا اور ان کے ایک نائب نے فوراً فون سے شمس صاحب کو مطلع کیا کہ ہم اپنے قونصل روم کو تار دے رہے ہیں اور دوسرے تیسرے دن ان کو اطلاع دی کہ اس کی طرف سے اطلاع آئی ہے کہ اس نے اطالوی حکومت کی کو توجہ دلائی ہے اور اس کی طرف سے جواب ملا ہے کہ فی الحال اس حکم کو اٹلی کی حکومت نے کی منسوخ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ابھی مزید تحقیقات کریں گے تو انگریزی حکومت ہی ایسی ہے جس میں ہمیں تبلیغی سہولتیں حاصل ہیں۔اس کے علاوہ اور کسی حکومت میں ہم نے امن نہیں دیکھا۔سوائے ڈچ حکومت کے۔انگریزی حکومت میں سب سے زیادہ امن ہے اور دوسرے نمبر پر ہالینڈ کی حکومت ہے اور کسی حکومت میں ایسا نہیں۔جاپان کا فی الحال ہم نے تجربہ نہیں کیا مگر باقی حکومتوں میں کیا ہے وہ اسلامی مبلغ کو برداشت نہیں کر سکتیں۔میں خود مسولینی سے ملا تھا اور اس نے مجھے خود کہا تھا کہ اپنا مبلغ بھیجیں اور اس وجہ سے خیال تھا کہ وہ ہمدردانہ رویہ رکھیں گے مگر تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ وہ ہمدردی عمل میں نہیں آئی۔تو انگریزوں کے بعض آدمیوں کی