خطبات محمود (جلد 20) — Page 367
خطبات محمود ۳۶۷ سال ۱۹۳۹ء چلنے لگے تو معلوم ہوا کہ موٹر کا وہ پُرزہ جو تکلیف دے رہا تھا پھر ٹوٹ گیا ہے اور اب ہماری موٹر کے چلنے کی کوئی صورت نہیں۔اس پر سب سواریاں کرایہ کی موٹر پر سوار ہوگئیں اور ہم آرام سے گھر پہنچ گئے۔خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل تھا کہ عین اُس وقت آ کر موٹر خراب ہوئی جب دوسری سواری کے لئے میسر آگئی اور ایسی خراب ہوئی کہ دو تین دن میں جا کر درست ہوئی مگر ہم بخریت گھر پہنچ گئے۔تو دیکھو اگر ایک بات ہو تو اسے اتفاق کہہ سکتے ہیں مگر اس کو کس طرح اتفاق کہا جا سکتا ہے کہ پہلے عین اس جگہ پر پہنچا کر موٹر خراب ہوتی ہے جس کے لئے میں نے دُعا کی تھی اور وہاں جنگل میں ایک لاری بھی کھڑی ہوئی مل جاتی ہے جسے ساتھ لے کر ہم بقیہ سفر پورا کرنے کے لئے چل کھڑے ہوتے ہیں پھر جب وہ لاری والا ہمیں جواب دیتا ہے اور اصلی چڑھائی شروع ہوتی ہے۔میں پھر دُعا کرتا ہوں اور نہایت سخت چڑھائی پر موٹر بالکل آرام سے چڑھ جاتی ہے لیکن جب راستہ میں ایک اور شہر آتا ہے تو وہاں غیر متوقع طور پر پھر ایک موٹر مل جاتی ہے اور اس موٹر کے مل جانے پر پھر ہماری موٹر بُری طرح خراب ہو جاتی ہے لیکن ہم تکلیف کی سے بچ جاتے ہیں اور دوسری موٹر میں سوار ہو کر گھر پہنچ جاتے ہیں۔غرض مومن تو دعاؤں کی کی قبولیت کے نشان ہر روز دیکھتا ہے۔اسی جنگ کو دیکھ لو جس کے آثار نظر آ رہے ہیں۔اس میں بھی خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے نشانات ہیں۔البانیہ میں ہمارا مبلغ گیا تھا مگر اُنہوں نے اسے نکال دیا۔اللہ تعالیٰ نے اس ملک پر تباہی نازل کر دی اور اٹلی نے اسے فتح کر لیا گو ایک مسلمان حکومت کی تباہی کا ہمیں افسوس ہے مگر خدا تعالیٰ کے نشان میں اس سے کمی نہیں ہو سکتی۔پھر ہمارا ایک اور مبلغ پولینڈ میں گیا اُنہوں نے بھی اسے وہاں سے نکال دیا۔اب دیکھ لو وہ کس طرح کانٹوں پر لیٹ رہا ہے۔وہاں سے وہ چیکوسلواکیہ گیا اُنہوں نے بھی اسے نکال دیا۔اسے بھی اللہ تعالیٰ نے برباد کر دیا۔اس طرح متواتر تین ممالک میں نشان ظاہر ہوئے۔پہلے افغانستان کا کی حشر جو ہوا وہ سب کو معلوم ہے ان سب کو اتفاق کس طرح کہا جا سکتا ہے اور جن لوگوں کو روزانہ کی ایسے نشانات نظر آئیں ان کا ایمان اگر دُعا پر نہ ہو تو ان سے زیادہ بے وقوف کون ہوسکتا ہے۔پس دُعائیں کرو اور یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کی دُعائیں سنتا ہے مگر تمہاری زیادہ سنتا ہے۔آج سے چار سال قبل میں نے اس ممبر پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ انگریزی حکومت کے بعض افسر ہمیں