خطبات محمود (جلد 20) — Page 369
خطبات محمود ۳۶۹ سال ۱۹۳۹ء۔شرارتوں کے باوجود ہماری ہمدردی انگریزوں سے ہے کیونکہ وہ دوسری شہنشاہیت والی حکومتوں کی نسبت بہت اچھے ہیں۔پس ہم جو ان کی حکومت میں بستے ہیں ہمارے لئے ان کے ساتھ تعاون کرنا ضروری ہے مگر میں کہتا ہوں کہ جو میرے اس خیال سے متفق نہ ہوں وہ بھی کی تعاون پر مجبور ہیں۔کیونکہ ہندوستان اور انگلستان کا تعلق ایسا نہیں کہ اس کی موجودگی میں کی ہندوستان الگ رہ سکے۔اسی دعاؤں کے ہی ضمن میں ایک اور بات بھی میں کہنی چاہتا ہوں مجھے رپورٹ پہنچی ہے کہ احرار نے استقاء کی نماز عید گاہ میں پڑھنی چاہی۔اس سے ہمارے آدمیوں کو اپنے حقوق کے اتلاف کا خیال ہوا اور اُنہوں نے اُن کو روکا۔چنانچہ حکام نے ان کو وہاں کی نماز پڑھنے سے روک دیا۔اس موقع پر مجھے خیال آیا کہ ان کے پاس نماز کے لئے جگہ موجود نہ کی تھی۔پہلے بھی جب قبرستان کا جھگڑا ہوا ہے مجھے یہ خیال آیا تھا اور میں نے اس موقع پر کی مجسٹریٹ کو کہلا بھی بھیجا کہ اگر یہ لوگ اپنی مشکلات مجھے بتا ئیں تو میں حُسنِ سلوک سے انکار نہیں کی کروں گا مگر یہ لوگ ایسا طریق اختیار کرتے ہیں جولڑائی کا ہوتا ہے اور اس لئے ہمیں بھی مجبوراً جواب دینا پڑتا ہے۔اس موقع پر پھر مجھے خیال آیا کہ یہ بات انسانی فطرت میں داخل ہے کہ اگر کوئی چیز اس کی طرف منسوب نہ ہو تو اسے تکلیف ہوتی ہے جو بچے یتیم ہو جاتے ہیں ان کے رشتہ دار گواُن کے ماں باپ سے بھی اچھا سلوک ان کے ساتھ کریں ان کے دل میں یہ خلش ضرور رہتی ہے کہ ہمارے ماں باپ نہیں ہیں اسی طرح گو ان کو نماز کے لئے جگہ تو مل گئی مگر ان کے دل میں یہ احساس تو ضرور ہوگا کہ یہ ہماری نہیں ہے اور اس میں نماز پڑھنا ہما را حق تو نہیں۔یہ کسی زمیندار کا احسان ہے کہ اس نے پڑھنے کی اجازت دے دی۔جس دن کوئی چاہے اجازت دے دے اور جس دن چاہے نکال دے اور گو میں پہلے بھی اس امر کے لئے تیار تھا کہ اگر وہ آ کر کہیں تو ان کے لئے علیحدہ انتظام کر دوں مگر اب مجھے خیال آیا کہ میں کیوں اس امر کو کی اس دن کے لئے اُٹھا رکھوں کہ جب وہ آ کر مجھ سے مدد مانگیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس جگہ زمین دے رکھی ہے۔ہزاروں خاندان اس ملک میں ایسے ہیں کہ جن کے باپ دادا کی بادشاہت یہاں ہم سے زیادہ تھی مگر آج وہ جو تیاں صاف کر کے روزی کماتے ہیں اور گو آج ہمارے پاس دولت نہ ہو مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی زمین ضرور ہے کہ ہم مالک یا رئیسی