خطبات محمود (جلد 20) — Page 15
خطبات محمود ۱۵ سال ۱۹۳۹ء گزر جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کو رحم آئے گا اور وہ پچھلے سارے نقصانات پورے کر دے گا ہے تو اگر صرف بندوں کے امتحان ہوتے تو وہ تم کو بدلہ نہیں دے سکتے تھے۔مثلاً جماعت چندوں کے مقابلہ میں تمہیں کیا دے سکتی ہے؟ یا میں تحریک جدید کے بدلہ میں تمہیں کیا دے سکتا ہوں؟ یا خلافت جو بلی فنڈ میں حصہ لینے کی وجہ سے وہ لوگ تمہیں کیا بدلہ دے سکتے ہیں جنہوں نے یہ تحریک کی۔انسانوں میں سے کوئی ان چیزوں کا بدلہ نہیں دے سکتا۔پس جب کوئی انسان اس کا بدلہ نہیں دے سکتا تو اللہ تعالیٰ نے خوداپنا حصہ اس میں ڈال دیا اور خدا تعالیٰ جب لیا کرتا ہے تو وہ دیا بھی کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے کہا جماعت پر اس وقت تین کی ابتلا ہیں۔آؤ میں بھی ان ابتلاؤں میں اپنی طرف سے ایک اور ا بتلا کا اضافہ کر کے شامل ہو جاؤں تا کہ ان کی قربانیاں بے بدلہ کے نہ رہیں اور میری طرف سے انہیں اتنا کثیر بدلہ مل جائے جو باقی کی تین قربانیوں کے بدلہ پر بھی حاوی ہو جائیں۔پس گو بظا ہر قحط کے آثار نہایت خطرناک نظر آتے ہیں مگر روحانی نقطہ نگاہ سے اِس میں بہت بڑی برکات پوشیدہ ہیں اور اب جماعت کے ابتلا ایسے نہیں رہے جو بے بدلہ کے رہ جائیں۔اب خدا خود اس امتحان میں شامل ہو گیا ہے اور جب خدا کسی امتحان میں شامل ہو جائے تو رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ " کے مطابق ابتلاؤں کا انجام رحمت ہی ہو ا کرتا ہے۔چونکہ میرا گلا بیٹھتا چلا جا رہا ہے اس لئے میں کوئی اور بات نہیں کر سکتا اور نہ ایک دو باتیں اور بھی میں نے کہنی تھیں۔اب میں اسی پر اپنے خطبہ کوختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے ہمیں کسی ایسے ابتلا میں نہ ڈالے جو ہماری تباہی کا موجب ہو بلکہ ہمارے سارے ابتلا خواہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں یا خلیفہ کی طرف سے ، نظام کی طرف سے ہوں یا افراد کی طرف سے۔جماعت کی بہتری اور اس کی ترقی کا موجب ہوں اور وہ نہ صرف ہمیں روحانی اور ایمانی برکات کا وارث بنانے والے ہوں بلکہ مالی اور جسمانی طور پر بھی ہر قسم کے فوائد سے ہمیں متمتع کرنے والے ہوں اور ہماری قر بانیاں اُس پیج کی طرح ہوں جو بہتر سے بہتر ہوتا ہے ، بہتر سے بہتر زمین میں ڈالا جاتا ہے اور بہتر سے بہتر کوشش اور محنت کے بعد صحیح موسم میں اچھے سے اچھا پانی لے کر پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان قربانیوں کے بدلہ میں