خطبات محمود (جلد 20) — Page 14
خطبات محمود ۱۴ سال ۱۹۳۹ء اُس وقت انگریزوں اور فرانسیسیوں کی فتح کے آثار جب جرمن حکومت نے دیکھے تو انہوں نے بے تحاشا امریکن جہازوں پر حملے کر دیئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر امریکہ بھی لڑائی میں کود پڑا۔بعد میں لوگوں کو جرمن والوں کی اِس چالا کی کا علم ہوا کہ انہوں نے کیوں امریکن جہازوں پر حملے کئے تھے۔وو اصل بات یہ ہے کہ جرمن والوں نے یہ سمجھا کہ فرانسیسیوں اور انگریزوں سے ہمارے پشتینی لے جھگڑے چلے آتے ہیں اور یہ بقول پنجابی زمینداروں کے ہمارے بنے کے شریک ہیں۔اگر صرف یہی لڑائی میں شامل رہے تو یہ صلح کے وقت اتنی کڑی شرطیں رکھیں گے کہ ہمیں کی پیس ڈالیں گے لیکن اگر اس جنگ میں امریکہ بھی شامل ہو گیا تو امریکہ کو چونکہ ہم سے نہ کوئی کی شراکت ہے اور نہ کوئی پرانی دشمنی، اس کے علاوہ ایک کروڑ کے قریب وہاں جرمن بھی رہتے ہیں جن کا امریکہ والوں پر اثر ہے اس لئے اگر وہ جنگ میں شامل ہو گیا تو صلح میں بھی لازماً شامل ہوگا اور جب وہ صلح میں شامل ہوگا تو وہ صلح کے وقت اتنی کڑی شراکا نہیں رکھنے دے گا اور وہ ضرور کچھ نہ کچھ نرمی کرے گا۔چنانچہ واقع میں ایسا ہی ہوا۔اس جنگ میں امریکہ کی شمولیت کی وجہ سے صلح کے وقت بہت نرم شرطیں طے ہوئیں۔ورنہ پہلے ان کے جو کچھ ارادے تھے اُس کا پتہ اس امر سے لگ سکتا ہے کہ مسٹر لائڈ جارج نے ایک تقریر میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم کی سیب کو اتنا نچوڑیں گے کہ اس کے بیج بھی چیخ اُٹھیں گے۔یعنی ہم جرمنی کو اتنا ذلیل کریں گے گی اور اس سے اتنا روپیہ وصول کریں گے کہ اس کی ہڈیاں کھوکھلی کر دیں گے۔تو بندوں کے کی ابتلاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ابتلا کا شامل ہو جانا ایک بہت بڑی برکت کا پیش خیمہ ہے کیونکہ بندوں کو دوسرے بندوں پر رحم آئے یا نہ آئے۔کیونکہ کسی انسان کو کیا پتہ کہ دوسرے کو کیا تکلیف ہے اور اس نے رکن مخالف حالات میں قربانی کی ہے۔اللہ تعالیٰ کو ضرور رحم آ جاتا ہے کیونکہ وہ عالم الغیب ہے اور وہ جب کوئی ابتلا اپنے بندوں پر وارد کرتا ہے تو ساتھ ساتھ عالم الغیب ہونے کی وجہ سے اُن کے حالات بھی دیکھتا جاتا ہے اور جب اُسے رحم آتا ہے تو وہ اگلی پچھلی تمام کسریں نکال دیتا ہے۔جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں ایک بادشاہ کو یہ خواب دکھایا گیا کہ سات سال قحط پڑے گا مگر جب سات سال