خطبات محمود (جلد 20) — Page 137
خطبات محمود ۱۳۷ سال ۱۹۳۹ء قصور کے بعد کا غذ اور قلم دوات لے کے بیٹھ جائے اور معافی کی درخواست لکھنا شروع کر دے اور تم کوئی ایسا احمق نہیں دیکھو گے جو ایسے شخص کی سفارش کرے مگر ہمارے ہندوستان میں یہ عام بات ہے اور یہ مرض اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس کے نتیجہ میں عجیب عجیب نظارے بعض دفعہ دیکھنے میں آئے ہیں۔چنانچہ اس سلسلہ میں ایک امر کا میرے دل پر بہت گہرا اثر ہے۔جب تشخیز الا ذہان کی انجمن قائم ہوئی تو اس وقت ہم میں سے ایک شخص سے ایک غلطی ہوئی اُس نے بعد میں تو بہ بھی کی ، قربانی بھی کی اور نقصان بھی اُٹھایا مگر اُس وقت اُس سے غلطی ہو گئی ، اُس شخص کی کے اخلاص کا تم اس سے اندازہ کر لو کہ وہ ایک معقول تنخواہ چھوڑ کر یہاں صرف دس روپیہ ما ہوار پر ہماری انجمن میں ملازم ہو گیا تھا۔یہ شخص ہماری انجمن کے ابتدائی ممبروں سے تھا۔ضمناً میں یہ بتا دیتا ہوں کہ جس وقت میں نے یہ انجمن قائم کی تھی اُس وقت ہم صرف سات لڑکوں نے اسے اپنے خرچ پر جاری کیا تھا۔اس وقت تحریک جدید کے ایک سو چالیس لڑکے ہیں مگر وہ اُن کی سات جیسا کام کر کے بھی نہیں دکھا سکتے۔ہم کل سات لڑکے تھے مگر ہم نے دس روپیہ ماہوار کا ایک نو کر بھی رکھا ہو ا تھا۔ہماری مالی حالت اُس وقت جو کچھ تھی اُس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے ہے کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے تین روپیہ ماہوار وظیفہ ملا کرتا تھا جو قلم دوات کا غذ اور دوسری ضروریات پر میں خرچ کیا کرتا۔مگر ان تین روپوں میں سے بھی کی میں ایک روپیہ ماہوار اس انجمن پر خرچ کرتا تھا۔اسی طرح باقی لڑکوں کا حال تھا۔اسی سرمایہ سے آہستہ آہستہ ہم نے رسالہ جاری کیا اور چونکہ رسالہ پر ہم خود محنت کیا کرتے تھے اس لئے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اچھا سرمایہ جمع ہو گیا اور ہمارا کام عمدگی سے چلنے لگا اور ہم نے کام کی کی سہولت کے لئے دس روپیہ ماہوار پر ایک آدمی رکھنے کا فیصلہ کیا اور اس دوست نے اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کر دیا۔وہ آدمی بہت نیک تھا ، غریبوں کی مدد کیا کرتا ، رفاہ عام کے کاموں میں حصہ لیتا اور نماز روزہ کا بھی پابند تھا مگر بعض دفعہ آدمی سے کوئی کوتا ہی ہو ہی جاتی ہے اس سے بھی ایک دفعہ یہ کوتاہی ہوئی کہ انجمن کا کچھ روپیہ اس نے اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ کر لیا اور خیال کر لیا کہ اگلی تنخواہوں سے آہستہ آہستہ ادا کر دوں گا۔اس امر کا جب ہمیں علم ہوا تو یہ معاملہ ہماری کمیٹی میں پیش ہوا۔اُس وقت ہم میں سے کچھ کالج کے سٹوڈنٹس بھی تھے