خطبات محمود (جلد 20) — Page 136
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء حساس نہ بنے ، وہ انتہا درجہ کا باشعور نہ بنے ، وہ انتہا درجہ کا فقیہہ نہ بنے ، وہ انتہا درجہ کا مفکر نہ بنے مگر وہ ایک اوسط درجہ کا فطین ، ایک اوسط درجہ کا ذہین اور ایک اوسط درجہ کا مفکر اور فقیہہ بن سکتا ہے اگر کوشش کرے۔پس خدام الاحمدیہ کا کام اس طرز پر ہونا چاہئے کہ نو جوانوں میں ذہانت پیدا ہو ممکن ہے وہ کہیں ہمیں یہ باتیں نہیں آتیں اور ہم سمجھ نہیں سکتے کہ کس طرح اس کام کو چلائیں۔سو وہ میرے پاس آئیں اور مجھ سے مشورہ لیں مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تمام باتیں آتی ہیں۔میں انہیں باتیں بتاؤں گا آگے عمل کرنا اُن کا کام ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر وہ میری باتوں پر عمل کریں تو نو جوانوں میں بہت جلد ذہانت پیدا ہوسکتی ہے۔ذہانت دراصل نتیجہ ہے کامل توجہ کا۔اگر ہم کامل توجہ کی عادت ڈال لیں تو لازماً ہمارے اندر ذہانت پیدا ہو گی اور یہ ذہانت پھر ایک مقام پر ٹھہر نہیں جاتی بلکہ ترقی کرتی رہتی ہے۔میں نے اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے خدام الاحمدیہ کے کارکنان کو نصیحت کی ہے کہ اگر اُن میں سے کوئی اپنے فرائض کی تی بجا آوری میں غفلت سے کام لیتا ہے تو اُسے سزا دو کیونکہ توجہ پیدا کرنے کے مختلف سامانوں میں سے ایک سامان ڈر بھی ہے۔یعنی انسان کو یہ خیال ہو کہ اگر میں ناکام رہا تو مجھے سزا ملے گی۔یورپین لوگوں میں ذہانت کی ترقی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ مجرم کو سزا دینے میں سخت سنگدل ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ جب کسی سے کوئی قصور سرزدہوا اور اُسے سزا دی جائے تو وہ اپنے قصور کے ازالہ کے لئے صرف اتنا کافی سمجھتا ہے کہ پیسے کے دسویں حصہ کا کاغذ لیا اور پیسے کی بیسویں حصہ کی سیاہی اور لکھ دیا حضور میری تو بہ ! میرا قصور معاف فرمائیں۔آپ سے زیادہ رحیم بھلا کون ہو سکتا ہے۔آپ رحیم کریم اللہ کے نمائندے ہیں اور اگر چوبیس گھنٹے کے اندراندر اُ سے جواب نہ دیا جائے کہ اچھا تمہیں معاف کر دیا گیا ہے تو تمام معززین کی چٹھیوں پر کی چٹھیاں آنی شروع ہو جائیں گی کہ فلاں شخص بڑا پشیمان ہے ، وہ اب تو بہ کرتا ہے، اُسے معافی کیا جائے۔تم اس قسم کا تمسخر کسی زندہ قوم میں نہیں دیکھ سکتے۔تم چلے جاؤ انگلستان میں تم چلے جاؤ جرمنی میں ، تم چلے جاؤ امریکہ میں ، تم چلے جاؤ اٹلی میں ، تم چلے جاؤ فرانس میں تم کسی ایک جگہ بھی ایسا تمسخر ہوتے نہیں دیکھو گے۔تم سو میں سے ایک احمق بھی ایسا نہیں دیکھو گے جو