خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 112

خطبات محمود ۱۱۲ سال ۱۹۳۹ء تا جولوگ سُست ہیں وہ بھی پست ہو جائیں اور ایسا تو کوئی بھی نہ رہے جو کام کرنے کو عیب سمجھتا ہو۔جب تک ہم یہ احساس نہ مٹادیں کہ بعض کام ذلیل ہیں اور ان کو کرنا بہتک ہے یا یہ کہ ہاتھ سے کما کر کھانا ذلت ہے اُس وقت تک ہم دُنیا سے غلامی کو نہیں مٹا سکتے۔لوہار، بڑھتی ، دھوبی ، نائی کی غرضیکہ کسی کا کام ذلیل نہیں۔یہ سارے کام دراصل لوگ خود کرتے ہیں۔ہر شخص تزئین کرتا ہے، اپنی داڑھی اور مونچھوں کی صفائی کرتا ہے۔یہی حجام کا کام ہے۔بچہ پیشاب کر دے تو امیر غریب ہر ایک اسے دھوتا ہے جو دھوبی کا کام ہے تو یہ سب کام انسان کسی نہ کسی رنگ میں خود کرتا ہے مگر اس طرح کہ کسی کو پتہ نہ لگے اور خود بھی محسوس نہ کرے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ وہ ایسے رنگ میں کرے کہ وہ سمجھتا ہو کہ گو یہ کام بُرا سمجھا جاتا ہے مگر دراصل بُرا نہیں اور اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ہر انسان اپنی طہارت کرتا ہے۔یہ کیا ہے؟ یہی چوہڑوں والا کام ہے اور جب تک کوئی شخص یہ چوہڑوں والا کام نہ کرے لوگ اسے پاگل سمجھتے ہیں اور اس سے زیادہ غلیظ اور کوئی ہوتا نہیں تو جب تک ایسے تمام کام کرنے کی عادت نہ ہو ان کے کرنے والوں کی اصلاح بُری لگتی ہے۔جیسے یہاں چوہڑوں کی اصلاح پر بعض لوگوں کو گھبراہٹ ہوئی تھی۔حالانکہ مکہ اور مدینہ میں کوئی چوہڑے نہ ہوتے تھے۔آخر وہاں گزارہ ہوتا ہی تھا اور اب تو ولایت میں بلکہ ہندوستان میں بمبئی اور کلکتہ وغیرہ میں بھی ایسے پاخانے بنادیئے گئے ہیں کہ چوہڑوں کی ضرورت ہی نہیں رہی۔لاہور میں بھی اس کا انتظام زیر تجویز ہے۔پاخانہ میں جاؤ تو نلکے لگے ہوئے ہیں، فارغ ہونے کے بعد نلکا کھول دو۔زمین کے نیچے سرنگیں بنی ہوئی ہیں جن کی میں سے پاخانہ بہہ کر جنگل میں چلا جاتا ہے اور وہاں کھاد کے کام آتا ہے۔بہر حال کسی جماعت کا یہ خیال کرنا کہ اس کے بعض افراد گندے ہیں اور بعض اچھے ہیں ایسا ذلیل خیال ہے کہ اس سے زیادہ ذلیل اور نہیں ہوسکتا۔اگر واقعی کسی کے اندر گند ہے تو اس کی اصلاح کرنی چاہئے لیکن اگر وہ اچھے ہیں تو ان سے نفرت کرنا اپنے اوپر اور اپنی قوم کے اوپر ظلم ہے۔چونکہ اپنے اپنے طور پر ہاتھ سے کام کرنے کی نگرانی نہیں ہو سکتی اس لئے میں نے تحریک کی تھی کہ قومی طور پر یہ کام کیا جائے اور سڑکیں بنائی اور نالیاں درست کی جائیں تانگرانی ہو سکے اور دوسروں کو بھی تحریک ہو۔اس کے سوا بھی اس میں کئی فائدے ہیں مثلاً جس قوم میں یہ