خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 113

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء عادت پیدا ہو جائے اُس کی اقتصادی حالت اچھی ہو جائے گی ، اس سے سوال کی عادت دُور ہوتی جائے گی ، اس کے افراد میں سستی نہیں پیدا ہوگی۔پھر جن لوگوں کی اقتصادی حالت اچھی ہوگی وہ چندے بھی زیادہ دے سکیں گے ، بچوں کو تعلیم دلا سکیں گے اور اس طرح ان کی اخلاقی حالت درست ہو گی تو اس کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔مگر سب سے اہم امر یہ ہے کہ اس سے مذہب کو تقویت ہوتی ہے اور دُنیا سے غلامی مٹتی ہے۔جب تک دُنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی کو ہاتھ سے کام کرنے کی عادت نہیں وہ کوشش کریں گے کہ ایسے لوگ دُنیا میں موجود رہیں جو ان کی خدمت کرتے رہیں اور دُنیا ترقی نہ کرے۔میری غرض یہ ہے کہ اس کام کو نہایت اہمیت دی جائے اور پورے اہتمام سے شروع کیا جائے۔افسوس ہے کہ اس وقت تک کوئی مستعدی نہیں دکھائی گئی۔یہاں بھی خدام الاحمدیہ کو یہ کام شروع کر دینا چاہئے اور پھر دوسرے گاؤں اور شہروں میں بھی شروع ہونا چاہئے۔گاؤں کے لوگوں کو صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔گاؤں میں بہت گند ہوتا ہے اور گاؤں کا تو کیا کہنا مجھے خود کئی لوگوں نے یہ طعنے دئے ہیں کہ سب سے زیادہ گند یہاں احمدیہ چوک میں ہوتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اپنے ساتھ بعض انگریز دوستوں کو یہاں لاتے رہے ہیں، وہ سب اس بات کی تو تعریف کرتے ہیں کہ محلے بہت کی اچھے ہیں ، سڑکیں چوڑی ہیں مگر صفائی نہ ہونے کی شکایت وہ بھی کرتے ہیں۔رسول کریمی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رستہ سے کانٹا ہٹا دینا بھی نیکی ہے سے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو رستہ پر پاخانہ پھرتا ہے اُس پر لعنت ہوتی ہے ہے مگر شاید لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ راستہ پر پاخانہ کرنا ہی لعنت کا موجب ہے گھر میں سے خواہ دس آدمیوں کا پاخانہ اُٹھا کر گلی میں پھینک دو یہ کوئی بُری بات نہیں۔میں پوچھتا ہوں کیا قادیان کی کوئی بھی گلی ہے جو صاف رہتی ہو؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گلی میں پاخانہ بیٹھنے سے کیوں منع فرمایا ہے؟ اس لئے کہ اس سے گندگی پھیلتی ہے ، وبائیں اور بیماریاں پھیلتی ہیں۔آپ نے ایک کے پاخانہ کرنے کو منع کی فرمایا ہے مگر تم ہو کہ دس کا پاخانہ گلی میں پھینک دیتے ہوا اور پھر سمجھتے ہو کہ اس سے تم پر کوئی لعنت نہیں پڑتی۔پھر میں نے دیکھا ہے جانور ذبح کر کے بال و پر ، اوجھڑیاں اور ان کا پاخانہ وغیرہ سب گلی میں پھینک دیا جاتا ہے۔مرغیاں آکر ان کو نو چتی ہیں ، آنت تو ڑ کر الگ کر لیتی ہیں اور۔