خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 111

خطبات محمود 111 سال ۱۹۳۹ء ایک دفعہ توجہ دلائی اُنہوں نے کہا کہ میرا بھی خیال اِسی طرف تھا۔گویا ایک ہی وقت دونوں کو اس طرف توجہ ہوئی۔حافظ صاحب نے کہا کہ اِن لوگوں کو دیکھ کر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کام کر رہے ہیں بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگی ہوئی ہے اور یہ اسے بجھا رہے ہیں کوئی سستی ان میں نظر نہیں آتی۔ایک دفعہ ہم گھر میں بیٹھے تھے کھڑ کی کھلی ہوئی تھی کہ گلی میں چند عورتیں نظر آئیں جو لباس سے آسودہ حال معلوم ہوتی تھیں مگر نہایت جلدی جلدی چل رہی تھیں میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ ان کو کیا ہو گیا ہے؟ حافظ صاحب ذہین آدمی تھے سمجھ گئے اور کہنے لگے کہ میں نے یہاں کسی کو چلتے دیکھا ہی نہیں سب لوگ یہاں دوڑتے ہیں۔غرض وہاں کے لوگ ہر کام ایسی مُستعدی سے کرتے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے لیکن ہمارے ملک میں جدھر دیکھو سخت غفلت اور سستی چھائی ہوئی ہے۔کسی کو چلتے دیکھو تو سستی کی ایسی لعنت ہے کہ چاہتا ہے ہر قدم پر کیلے کی طرح گڑ جائے یہاں جو کام کرنے والے ہیں وہ بھی گویا سکتے ہی ہیں اور جو کچ سست ہیں اور کام کرتے ہی نہیں ان سے تو اللہ کی پناہ۔ان کی حالت تو وہی ہے کہ بیر اُٹھا کر کی منہ میں نہیں ڈال سکتے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس کے ساتھی کی جس نے کہا تھا کہ ساری رات گیتا میرامنہ چاھتا رہا اور اس نے ہشت تک نہ کی۔کمبخت تو نے آپ ہی کیوں نہ ہشت کہہ دیا ؟ حضرت خلیفہ اول ایک شخص کے متعلق سُنایا کرتے تھے۔وہ ایک گاؤں کا رہنے والا اور اچھا مخلص احمدی تھا۔زمین وغیرہ اچھی تھی اور باپ نے کچھ روپیہ بھی چھوڑا تھا۔وہ یہاں آیا اور شہری لوگوں سے اُس کے تعلقات ہوئے تو دماغ بگڑ گیا اور لگا روپیہ اڑانے۔جس کے نتیجہ میں روپیہ میں کمی آنے لگی۔حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ اُسے کام کرنے کی طرف توجہ دلائی تو اُس نے کہا کہ میری تو یہ حالت ہے کہ اگر لاہور جاؤں اور میرے پاس کوئی ٹرنک یا اسباب نہ ہو تو اپنا رو مال قلی کو پکڑا دیتا ہوں تا دیکھنے والے یہ تو سمجھیں کہ کوئی شریف آدمی جا رہا ہے۔شریف بننا کوئی آسان کام تو نہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ اُس نے اپنی ساری دولت لگا دی اور آخرلڑکیوں کو ساتھ لے کر عیسائی ہو گیا۔اس کی لڑکیاں بھی اب عیسائی ہیں۔گویا ان میں سے کی بعض دل میں سمجھتی ہوں کہ عیسائیت سچا مذ ہب نہیں مگر بہر حال وہ عیسائی ہیں۔تو کام کرنے کی عادت ڈالنا نہایت ہی اہم چیز ہے اور اسے جماعت کے اندر پیدا کرنا نہایت ضروری ہے