خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 431

۴۳۱ دونوں میں بحث شروع ہو گئی۔ایک سو دس روپے کا بل تھا اور گاہک نوے روپے دینا چاہتا تھا اور دوکاندار مانتا نہیں تھا۔آخر اس شخص کے سیکرٹری نے سو روپے کا نوٹ دکاندار کے آگے رکھا اور اپنے ساتھی کو کہا چلئے سیٹھ صاحب اور وہ چلے گئے۔میں نے دکاندار سے کہا کیوں صاحب کیا یہاں ایک ہی قیمت ہوتی ہے۔اس نے جواب دیا آپ نے دیکھ ہی لیا ہے آدھ گھنٹہ اس نے میرا ضائع کیا اور آدھ گھنٹہ اپنا ضائع کیا۔آپ جانتے ہیں یہ کون ہے؟ میں نے کہا نہیں میں تو اسے نہیں جانتا۔اس نے کہا یہ شخص کپڑے کے کارخانوں کے ایک بہت بڑے گروپ کا مالک ہے اگر یہ اپنے کارخانہ میں بیٹھا ہوتا تو اتنی دیر میں دو لاکھ روپیہ کما لیتا لیکن اس کو جھگڑا کرنے کی عادت ہے۔اس کے مقابلہ میں میں تو ایک غریب آدمی ہوں لیکن وہ اتنا امیر ہے کہ اس کی ماں چونکے پر جانے سے پہلے پانچسو روپیہ روزانہ دان * گلہ کرتی ہے گویا وہ ماہوار ۱۵ ہزار روپے کا دان کرتی ہے لیکن باوجود اتنا امیر ہونے کے چند روپوں کے لئے وہ مجھ سے جھگڑتا رہا اور آدھ گھنٹہ میرا بھی ضائع کیا اور اپنا بھی اس میں میرا کیا قصور ہے۔لیکن اس وقت صحابہ کی یہ حالت تھی کہ ایک صحابی کے پاس ایک بدوی آیا اور اس نے فروخت کرنے کے لئے اپنا گھوڑا پیش کیا انہوں نے بدوی سے گھوڑے کی قیمت دریافت کی اس نے ایک ہزار دینار بتائی۔اس صحابی نے کہا میں گھوڑا تو خرید تاہوں لیکن یہ قیمت ٹھیک نہیں یہ گھوڑا دو ہزار دینار کا ہے۔وہ بدوی تو دیہات کی قیمت بہتا رہا تھا اور اپنی جگہ پر ٹھیک بتا رہا تھا لیکن یہ صحابی جانتے تھے کہ شہر میں آکر کسی چیز کی قیمت کتنی بڑھ جاتی ہے لیکن بدوی ایک ہزار دینار سے زیادہ قیمت لینے پر راضی نہ تھا اور کہتا تھا میں حرام کیوں کھاؤں۔اور وہ صحابی دو ہزار دینار سے کم قیمت دینے پر راضی نہ تھے اور کہتے تھے میں حرام کیوں کھاؤں۔۱۵ جہاں یہ اخلاق ہوں وہاں دوسروں کے حقوق مارے ہی کس طرح جا سکتے ہیں۔اگر کسی قوم کے اخلاق اس درجہ پر پہنچ جائیں تو اس میں مزدوروں وغیرہ کے جھگڑے کیوں ہوں اور ظلم کی آواز کیوں بلند ہو۔بہر حال یہ تیسری وجہ ہے جس کی وجہ سے صحابہ عید منانے کے حق دار تھے اور ان کی حقیقی عید تھی۔اس وقت کے ادنیٰ سے ادنی درجہ کے لوگوں میں بھی یہ نظارے اس قدر نظر آتے ہیں کہ حیرت آتی ہے۔یزید کتنا ظالم تھا اور اس کے بد کردار اور ظالم ہونے میں شبہ ہی کیا ہے لیکن اس کا بیٹا جس کو غلطی سے لوگ گالیاں دیتے ہیں اور جس کو یزید ابن یزید ، کہہ کر پکارتے ہیں ایک نهایت ہی نیک انسان تھا اور اس کا یہ حال تھا کہ جب اس کا باپ مر گیا اور وہ اس کی جگہ بادشاہ