خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 430

نہیں کہ وہ چھڑی مجھے لگی یا نہیں لیکن میں نے اسی وقت چارپائی پر کود کر جانے کی کوشش کی اور جب میری آنکھ کھلی میں چارپائی پر تھا۔غرض اب بھی خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں سے اتنی محبت کرتا ہے کہ اسے اس بات سے بھی تکلیف ہوتی ہے کہ کیوں اس کے بندے نے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالا اور کیوں اس نے یہ خیال کر لیا کہ جب تک وہ اپنے آپ کو تکلیف میں نہیں ڈالے گا میں اس کی بات نہیں مانوں گا۔بہر حال اس واقعہ کے بعد میری طبیعت پر جو بوجھ تھا وہ ختم ہو گیا اور جو تکلیف تھی وہ بھی کچھ وقت کے بعد دور ہو گئی۔لیکن جب تک وہ تکلیف قائم رہی اس نے میری طبیعت پر کچھ اثر نہ ڈالا۔میں یہ سمجھتا تھا کہ جب خدا تعالیٰ نے یہ پسند نہیں کیا کہ میں زمین پر سوؤں اور اپنی بات منوانے کے لئے اپنے نفس کو تکلیف میں ڈالوں تو وہ آئندہ بھی یہ کس طرح پسند کرے گا کہ مجھے کوئی تکلیف پہنچے۔بہر حال ان وجوہات میں سے جن کی وجہ سے صحابہ عید منایا کرتے تھے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں ان کا محبوب یعنی خدا تعالیٰ مل گیا تھا۔عید منانے کی دوسری وجہ جو قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ فردی ترقی کے علاوہ قومی ترقیات بھی اس قدر مل رہی ہوں کہ جدھر بھی قوم منہ کرے کامیابیاں اور کامرانیاں اس کے قدم چومیں۔صحابہ نے اتنی فتوحات حاصل کیں کہ جدھر بھی وہ منہ کرتے تھے فتح و نصرت ان کے ساتھ رہتی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ جنات ہیں جدھر بھی منہ کرتے ہیں دنیا کو مطیع بناتے چلے جاتے ہیں۔پہلی چیز روحانی اور فردی تھی اور یہ مادی اور قومی تھی جس کی وجہ سے صحابہ عید منانے کے مستحق تھے۔۱۴ تیسری وجہ عید منانے کی یہ ہوتی تھی کہ قومی اخلاق اس قدر بلند ہوں کہ لوگ کسی پر ظلم نہ کریں اور ہر شخص یہ سمجھے کہ اس کے حقوق محفوظ ہیں۔صحابہ اخلاقی لحاظ سے اتنے کمال پر تھے کہ اس زمانہ میں ہر شخص کے حقوق محفوظ تھے اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے لیکن آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ایک پیسہ پر بازار میں جھگڑا ہو جاتا ہے۔میں ایک دفعہ بمبئی گیا میرے ساتھ مستورات بھی تھیں انہوں نے کہا ہمارے علاقہ میں فلاں چیز نہیں ملتی وہ یہاں سے خرید لیں۔میں ایک بہت بڑی دکان پر گیا اور دکاندار سے اس چیز کی قیمت دریافت کی۔دُکاندار نے اس کا نرخ بتایا اور کہا ہمارے ہاں صرف ایک بات کی جاتی ہے بھاؤ کم نہیں ہو گا اور ساتھ ہی اس نے مجھ سے کہا ذرا ٹھہریئے وہ کسی اور شخص سے بات کر رہا تھا۔دُکاندار اور خریدار۔