خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 432

بنایا گیا تو بیعت لینے سے پہلے اس نے لوگوں کو مسجد میں جمع کیا اور ان کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا بادشاہت تلوار کے زور سے ہمارے خاندان میں نہیں آئی بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے خاندان کو عطا ہوئی ہے اور یہ مسلمانوں کا حق ہے میرے باپ دادوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے وہ اس کے مستحق ہوتے۔اس وقت ایسے لوگ موجود ہیں جن کے باپ میرے باپ سے اور وہ مجھ سے یقیناً اچھے ہیں اور ضروری ہے کہ یہ بادشاہت انہی کو ملے۔میں اس بادشاہت کو لینے کے لئے تیار نہیں ہوں جس کو تم چاہو بادشاہ بنا لو اور اتنی بات کہہ کر وہ گھر چلا گیا۔جب اس کی ماں کو پتہ لگا کہ وہ بادشاہت کو چھوڑ کر آگیا ہے تو اس نے کہا کمبخت تو نے خاندان کی ناک کاٹ دی۔اس نے اپنا سر جھکا لیا اور کہا ماں آپ کو معلوم نہیں میں نے خاندان کی ناک کائی نہیں بلکہ آج اس کی ناک رکھ لی ہے۔اس کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلا گیا اور اسی دکھ میں ہیں دن کے بعد مر گیا۔کلہ یہ وہ شخص ہے جس کے حالات زندگی معلوم نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان ان کی نیکی سے ناواقف ہیں۔اسی طرح ایک اور مسلمان بادشاہ مالک ارسلان کے متعلق بھی ایک واقعہ مشہور ہے۔گبن ۱۸ جیسا متعصب عیسائی مؤرخ اپنی کتاب Decline and Fall of the Roman Empir میں لکھتا ہے کہ مالک 19ء کے باپ کے فوت ہو جانے کے بعد سلطنت کے تین دعویدار کھڑے ہو گئے ان میں سے ایک تو خود مالک تھا، دوسرا اس کا چھوٹا بھائی اور تیسرا اس کا چچا تینوں میں لڑائیاں ہوئیں۔گبن لکھتا ہے کہ ایک دن علامہ طوی ۲۰ نے جو مالک کے وزیر اعظم اور استاد بھی تھے کہا بادشاہ سلامت ! چلئے ہم حضرت موسیٰ رضا کی قبر پر دعا کر آئیں۔مالک راضی ہوتی گئے اور وہ دونوں موسیٰ رضا اس کی قبر پر جا کر دعا مانگنے لگے۔جب وہ دعا مانگ چکے تو مالک نے ی علامہ طوسی سے کہا آپ نے کیا دعا مانگی ہے؟ انہوں نے کہا میں نے تو یہ دعا مانگی ہے کہ اے خدا! تو کل کی لڑائی میں میرے بادشاہ کو فتح نصیب کر اور اس کے دشمنوں کو ناکام کر۔مالک نے کہا مگر میں نے تو یہ دعا نہیں مانگی۔کیا تم بتا سکتے ہو کہ میں نے کیا دعا مانگی ہے۔علامہ طوسی نے کہا۔بادشاہ سلامت! آپ خود ہی بتا دیجئے میرا تو ذہن اس طرف نہیں جاتا۔مالک نے کہا میں نے تو یہ دعا مانگی ہے کہ اے میرے خدا! یہ بادشاہت مسلمانوں کا حق ہے میرا ذاتی حق نہیں جو مجھے ورثہ میں مل سکے۔میں انسان ہوں مستقبل کے حالات کا مجھے علم نہیں۔میں یہ نہیں جانتا