خطبات محمود (جلد 1) — Page 43
گئی۔دوسرے دن پھر آئی۔اور بنتے بنتے اور اسی طرح بے اختیار ہو کر کہ اس کے منہ سے مارے ہنسی کے لفظ بھی بمشکل نکلتا تھا۔حضرت مولوی صاحب کو کہنے لگی حضور ! میرا دوسرا لڑکا بھی مر گیا ہے۔تیسرے دن پھر آئی اور اسی طرح ہنستے ہوئے کہا مولوی صاحب میرا خاوند بھی مر گیا ہے۔اس کے ہاں چار موتیں ہوئیں اور اس نے ہر ایک کا حال مولوی صاحب کو ہنس ہنس کر سنایا۔وہ اس قدر زیادہ ہنستی کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے۔لیکن کیا وہ کسی خوشی کی وجہ سے ہنستی تھی۔نہیں بلکہ اسے مراق کی بیماری تھی۔اس کا دل غمگین تھا اور جو واقعات اسے پیش آئے تھے وہ رلانے والے تھے اس لئے اسے رونا چاہئے تھا مگر اسے رونے کی بجائے ہنسی آتی تھی۔کیا اس کی ظاہری خوشی در حقیقت خوشی تھی۔نہیں بلکہ وہ خوشی اسے پاگل ظاہر کر رہی تھی۔میں کہتا ہوں آج خوشی کی کیا بات ہے کہ مسلمان خوش ہیں۔اس کا جواب بجز اس کے اور کچھ نہیں دے سکتے کہ آج عید ہے۔لیکن وہ لوگ جو حقیقتاً شریعت کے مغز کو جانتے ہیں وہ اس کا یہ جواب دیں گے کہ آج مسلمان اپنے خدا کے حضور چونکہ اس بات کا شکریہ ادا کرنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں کہ انہوں نے مہینہ بھر اس کے حضور کامل طور پر اپنی عبودیت کا اقرار کیا ہے۔پس آج کی خوشی کسی دنیادی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے خوشی ہے کہ مسلمانوں نے اپنے آقا کے حضور جو عہد کیا تھا اس کو پورا کیا اور بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ میں انہوں نے بعض جائز باتوں کو بھی اس کی رضا کے لئے ترک کیا۔لیکن وہ شخص جو بلا غذر روزوں میں دن کو کھاتا پیتا اور نفسانی خواہشات کو پورا کرتا رہا خدا کے حکم بلاوجہ ٹلاتا رہا اس نے تو اپنی جان ظلم کیا۔اس کے لئے آج خوش ہونے کا کوئی موقع نہیں بلکہ اسے تو آج ماتم کرنا چاہئے۔پھر س نے اپنے اندر رمضان کا مہینہ پانے کے باوجود کوئی تبدیلی نہیں کی کوئی عبودیت کا اقرار نہیں کیا کوئی خدا سے صلح کرنے کی تیاری نہیں کی کہ جس سے وہ خدا کے فضل کا جاذب ہو تا اس کے لئے بھی خوش ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔اس کے لئے رنج کا موقع ہے۔اس کے لئے کسی راحت کا وقت نہیں بلکہ اسے دکھ در پیش ہے۔وہ کیوں ہنستا ہے اگر اس نے روحانی تبدیلی نہیں کی ، خدا کا عمد پورا نہیں کیا اور روحانیت کی طرف کوئی ترقی کا قدم نہیں اٹھایا۔تو کیا اس کو خوش ہونا چاہئے؟ ہر گز نہیں۔اسے تو رونا چاہئے۔عید ایسے دن کو کہتے ہیں جو بار بار آئے اور جس کے بار بار آنے کی خواہش کی جائے۔کہ مگر کیا وہ شخص جس کے گھر میں ماتم ہو وہ