خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 42

دنوں میں بھی انسان مہیا کر سکتا ہے۔ظاہری طور پر جب ہم دیکھتے ہیں تو خوشی کے یہی اسباب معلوم ہوتے ہیں۔کسی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔اس کے لئے خوشی کا موقع ہے ، کسی کی شادی ہوئی اسے خوش ہونا چاہئے کہ اپنا یا اپنے کسی دوست کا گھر آباد ہوا مال مل گیا یا کسی کو کوئی درجہ یا عہدہ حاصل ہو گیا، کسی تاجر کو کسی سودے میں بڑا نفع حاصل ہوا۔یا کہ کسی کسان کی فصل اچھی ہو گئی اور کھیت پھلا اور پھولا ہے اور غلہ کثرت سے پیدا ہوا اس کے لئے یہ ایک خوشی کی بات ہے۔پھر ایک حکومت اپنے دشمنوں پر فتح پا کر خوش ہوتی ہے کہ وہ دشمن کے مقابلہ میں جو اخراجات برداشت کر رہی تھی اور لاکھوں جانوں کو قربان کر رہی تھی ان سے اسے نجات حاصل ہو گئی اور دشمن کا خاتمہ کر کے اس کے ملک کو اپنے قبضہ میں کر لیا۔پھر ایک طالب علم جب وہ امتحان میں کامیاب ہو جاتا ہے تو خوش ہو تا ہے کیونکہ اس کی سال بھر کی محنت کا نتیجہ اسے مل گیا۔مگر عید کرنے والا اور اس موقع پر خوش ہونے والا کیوں خوش ہوتا ہے۔کیا اس کے کوئی لڑکا پیدا ہوا؟ یا اس کی یا اس کے کسی دوست کی شادی ہوئی ؟ یا کسی تجارت میں اس کو نفع عظیم ملا؟ یا اس کی کھیتی میں اچھا غلہ پیدا ہوا؟ یا کسی امتحان میں وہ کامیاب ہوا؟ یا اس کو کوئی درجہ اور عمدہ اور خطاب ملا؟ یا اس کو کہیں سے مال حاصل ہوا ؟ یا اس کو اس کے دشمنوں پر فتحی حاصل ہوئی ؟ ان باتوں میں سے تو کوئی بات بھی عید منانے والے کو حاصل نہیں ہوئی۔پس جب ان وجوہات میں سے جو بظاہر خوشی کا سبب ہوا کرتی ہیں کوئی وجہ بھی عید پر خوش ہونے والے کے پاس نہیں اور نہ ہی ان کے علاوہ کوئی ایسی وجہ رکھتا ہے جو ان سب سے اعلیٰ ہے تو پھر اس کا خوش ہو نا پاگلوں والا فعل ہے۔عید کے دن خوش ہونے والے لوگوں سے پوچھنا چاہئے کہ تمہارے خوش ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ اگر وہ صرف اچھے کھانے کھانا نئے کپڑے پہنتا ہی بتا ئیں تو یہ باتیں جیسا کہ میں پہلے بتا آیا ہوں اور ایام میں بھی میسر آسکتی ہیں۔ان پر خوش ہونا عقلمندوں کا کام نہیں کیونکہ ایک ایسے کام پر خوشی جو ہر وقت کیا جا سکتا ہے اور جس پر بہت کچھ خرچ ہوتا ہے دانائی نہیں ہے۔اس طرح خوش ہونے والوں پر مجھے ایک بات یاد آگئی۔حضرت خلیفہ اول کے پاس جب ہم پڑھا کرتے تھے ایک دن ایک عورت آئی اور اس طرح ہنستے ہنتے کہ گویا اسے کوئی بڑی خوشی حاصل ہوئی ہے کہنے لگی مولوی صاحب میرا بیٹا طاعون سے مر گیا ہے یہ کہہ کر پھر ہنستی ہوئی چلی