خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 44

1 سهم سلام کہتا یا خواہش رکھتا ہے کہ ایسا موقع میرے لئے روز روز آئے ؟ یا وہ جس کو تجارت میں گھانا پڑے یا جس کا مال چور لے گئے ہوں خوش ہو کر کہتا ہے کہ میرے لئے یہ موقع بار بار آئے؟ یا کسی کا گھر گر جائے یا کوئی اور نقصان ہو جائے تو کیا وہ خدا سے دعا ئیں کرے گا کہ یہ دن پھر بھی آئے ؟ ہرگز نہیں۔اسی طرح جس شخص نے رمضان میں روحانی ترقی نہیں کی ، اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کی، خدا سے صلح نہیں کی بلکہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور عہد شکنی کر کے گناہ کا مرتکب ہوا ہے وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ اس پر یہ دن لوٹ کر آئے۔لیکن اگر کوئی یہ کہے گا تو کیا اس کے یہ معنی نہیں ہوں گے کہ وہ چاہتا ہے کہ ایسا دن مجھ پر بار بار آئے جس میں میں عہد شکنی اور نافرمانی کر کے خدا سے دُور ہی دُور ہوتا جاؤں۔کوئی عظمند تو ہر گز یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایسی حالت جس میں اس نے خدا سے کوئی تعلق نہیں پیدا کیا، دین کی کوئی خدمت نہیں کی، روحانی اصلاح نہیں کی اس پر کوٹ کر آئے تا پھر وہ اسی طرح کرے۔لیکن جو شخص ایسی حالت کے باوجود عید کے دن خوش ہوتا اور خوشی کا اظہار کرتا ہے وہ گویا اپنے لئے بد دعا کرتا ہے کہ میری ایسی ہی بُری اور بد تر حالت رہے۔ایسا کرنے والے پر بچوں کی ایک کہانی صادق آتی ہے۔کہتے ہیں ایک شخص کو کسی نے کھچڑی کھلائی جو اسے بہت پسند آئی۔اور اس نے ارادہ کیا کہ اپنے گھر جا کر بھی پکوائیں گے۔مگر راستہ میں اس کا نام بھول گیا اور سوچ سوچ کر کھا چڑی" نام یاد کیا۔وہ اس خیال سے کہ پھر نہ بھول جائے اونچی آواز سے یاد کرتا ہوا ایک کھیت کے پاس سے گذرا جسے چڑیوں نے بہت نقصان پہنچایا تھا۔زمیندار نے جب اس کے منہ کھا چڑی کھا چڑی" سنا تو اسے بہت غصہ آیا۔اس نے پکڑ کر خوب مارا اور کھا چڑی ھا چڑی" کہنے سے روک دیا۔مار کھا کر اس نے کہا یہ نہ کہوں تو اور کیا کہوں۔زمیندار نے کہا۔کہو۔اُڑ چڑی"۔اب وہ "اُڑ چڑی اُڑ چڑی " کہتا ہوا چل پڑا۔آگے ایک ایسی جگہ پہنچا جہاں کسی شکاری نے جال بچھا رکھا تھا۔اس کا اڑ چڑی اڑ چڑی کہنا شکاری کو بہت برا معلوم ہوا۔اس نے اسے مارا اور کہا تم اُڑ چڑی کی بجائے یہ کہو کہ " آتے جاؤ پھنستے جاؤ۔" آگے جو گیا تو وہاں چور چوری کر رہے تھے انہوں نے اس کا گلا گھونٹا اور کوئی اور فقرہ سکھا دیا۔وہ وہی کہتا ہوا ایک ایسی جگہ پہنچا جہاں شادی کا سامان ہو رہا تھا۔وہ اس کے سر چڑھے کہ ایسے موقع پر ایسے بڑے الفاظ نہ کہو بلکہ یہ کہو کہ خدا یہ دن روز دکھائے۔وہی یہی کہتا ہوا چلا۔آگے کچھ لوگ جنازہ لئے جا رہے تھے۔انہوں نے اسے مارنا شروع کیا کہ ہم پر تو ایک ماتم کا وقت ہے اور تو یہ