خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 349

23 الله ۳۴۹ قاضی پیچھے پڑ گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ خدا کی مسجد ہے یہاں چھوٹے اور بڑے کا کوئی سوال نہیں۔چنانچہ اس کو تو نہ اٹھایا گیا مگر بادشاہ پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ اس نے جگہ بدل کر پیچھے کی طرف اپنے لئے حجرہ بنوالیا۔میں نے جب یہ واقعہ سنا تو اپنے دل میں کہا کہ اسلام کے ایک حکم کی بے حرمتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے آئندہ اس سے مسجد میں نماز پڑھنے کی توفیق چھین لی کیونکہ جس جگہ حجرہ بنایا گیا تھا وہ مسجد کا حصہ نہیں تھا بہر حال مسلمانوں نے نہایت سختی سے اس حکم پر عمل کیا ہے۔دیگر بہت سی باتوں میں انہوں نے امتیازات قائم کر لئے رشتوں ناطوں کا ان میں امتیاز پایا جاتا ہے، قومیت کا ان میں امتیاز پایا جاتا ہے، باہمی معاملات ہیں مثلاً میں ان میں امتیاز پایا جاتا ہے ، امیر اور غریب کا ان میں امتیاز پایا جاتا ہے، سید دوسری قوموں کو ذلیل سمجھتے ہیں اور بعض دوسری قوموں کے افراد سیدوں کو ذلیل سمجھتے ہیں اور اس طرح ان میں کئی قسم کے امتیازات پائے جاتے ہیں۔میں نے یہاں ایک دفعہ ایک کشمیری لڑکی کا ایک غیر ملکی معزز سمجھی جانے والی قوم کے لڑکے سے رشتہ طے کیا جب لڑکی کی نانی کو معلوم ہوا تو وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر کہنے لگی کہ ہمارے لئے اب کذات ہی رہ گئے ہیں۔اسی طرح ایک دفعہ ایک دوست میرے پاس آئے اور کہنے لگے آپ میری ہمشیرہ کے لئے کوئی رشتہ تلاش کر دیں۔اور یہ بھی کہا کہ والد صاحب نے بھی یہی کہا ہے کہ میری لڑکی کا رشتہ آپ ہی کہیں کریں۔میں نے کہا آپ کی کوئی شرط ہو تو مجھے بتا دیں تاکہ رشتہ کی تلاش کے وقت اس شرط کو ملحوظ رکھا جائے۔کہنے لگے شرط کی کوئی ضرورت نہیں لڑکا متقی ہو اور اچھے خاندان میں سے ہو۔میں نے کہا "اچھا خاندان " بڑے وسیع معنی رکھتا ہے اور پھر میں نے انہیں یہی واقعہ سنایا کہ ایک کشمیری لڑکی کا میں نے ایک جگہ رشتہ طے کیا اور وہ لڑکا میرے نزدیک معزز اقوام میں سے تھا مجھے اب یاد نہیں وہ سید تھا یا پٹھان تھا بہر حال وہ ایسی ہی قوم میں سے تھا جو بڑی سمجھی جاتی ہے مگر اس لڑکی کی نانی کو جب معلوم ہوا تو وہ کہنے لگی اب ہمارے لئے کذات ہی رہ گئے ہیں۔تو میں نے کہا آپ بھی بتا دیجئے کہ آپ کس کو کذات سمجھتے ہیں اور کس کو اچھی ذات والا سمجھتے ہیں تاکہ آپ کے منشاء کے مطابق رشتہ تلاش کیا جائے۔کہنے لگے کچھ نہیں صرف تقویٰ ہو اور لڑکا اچھی قوم سے تعلق رکھتا ہو۔میں نے پھر کہا کہ اچھی قوم سے آپ کی کیا مراد ہے اور میں نے خود ہی اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں دو قسم کی قومیں معزز سمجھی جاتی ہیں۔ایک قو میں تو وہ ہیں جو ہندوستان کے اندر رہنے والی ہیں اور کچھ قو میں وہ ہیں جو باہر سے