خطبات محمود (جلد 1) — Page 350
۳۵۰ ہندوستان میں آئی ہیں۔ہمارے ملک میں عام طور پر برہمنوں اور راجپوتوں کو بڑا سمجھا جاتا ہے اور جو قومیں باہر سے آئی ہیں ان میں سید قریشی ، مغل اور پٹھان اچھے سمجھے جاتے ہیں یہ چار قومیں ہیں جو باہر سے ہندوستان میں آئی ہیں جو افغانستان اور ایران سے آئے ہیں۔وہ پٹھان کہلاتے ہیں جو ترکوں میں سے آئے ہیں وہ مغل کہلاتے ہیں اور جو عرب میں سے آئے ہیں وہ سید اور قریش کہلاتے ہیں۔چاہے حقیقت میں وہ سید ہوں یا نہ ہوں، قریشی ہوں یا نہ ہوں، وہ کہتے اپنے آپ کو یہی ہیں۔اسی طرح کچھ ہندوستانی قومیں ہیں جو بڑی سمجھی جاتی ہیں برہمن اور مشتری اعلیٰ سمجھے جاتے ہیں اور دیش اور شودر اونی سمجھے جاتے ہیں۔پس آپ بتا دیں کہ آپ ان میں کس کو اعلیٰ سمجھتے ہیں اور کس کو ادنی تاکہ آپ کے منشاء کے مطابق رشتہ تلاش کیا جائے۔جب میں نے اس طرح نام بنام قوموں کو گنایا اور ان سے پوچھا کہ آپ کے لئے کیسا رشتہ ہو ؟ سید ہو ، قریشی ہو ، مغل ہو ، پٹھان ہو، برہمن ہو ، راجپوت ہو تو وہ کہنے لگے کوئی ہو قریش ہو ، مغل ہو ، پٹھان ہو ، برہمن ہو ، راجپوت ہو ، سید کا لفظ وہ چھوڑ گئے۔اس پر میرے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ انہوں نے سید کا لفظ جان بوجھ کر چھوڑا ہے یا غلطی سے چھوڑ دیا ہے مگر میں نے اس بارہ میں ان سے سوال کرنا مناسب نہ سمجھا اور کہا کہ میں پھر دُہرا دیتا ہوں آپ اچھی طرح غور کر لیں اور اپنے والد صاحب سے بھی دریافت کر لیں۔ہمارے ملک میں باہر سے جو اقوام آئی ہیں ان میں سید قریش، مغل اور پٹھان معزز سمجھے جاتے ہیں اور جو یہاں کے رہنے والے ہیں ان میں برہمن اور راجپوت معزز سمجھے جاتے ہیں کیا آپ ان اقوام میں سے رشتہ کو پسند کریں گے۔اس پر کہنے لگے کوئی ہو قریشی ہو ، مغل ہو ، پٹھان ہو ، برہمن ہو راجپوت ہو اور دوبارہ سید کا لفظ انہوں نے چھوڑ دیا۔میں نے انہیں کہا کہ میرے دل میں ایک شبہ پیدا ہوا ہے اور وہ یہ کہ میں نے دونوں دفعہ سیدوں کا پہلے نام لیا ہے کیونکہ وہ رسول کریم کی اولاد میں سے ہیں مگر آپ نے دونوں دفعہ سید کا لفظ چھوڑ دیا ہے کیا آپ نے سید کا لفظ سہو ا چھوڑا ہے یا ارادہ نام نہیں لیا۔کہنے لگے اراد ناہی میں نے سید کا نام نہیں لیا ؟ میں نے کہا کیوں؟ آخر سیدوں کا کیا قصور ہے۔ہنس کر کہنے لگے ہمارے ہاں تو سید فقیر اور منگتے ہی سمجھے جاتے ہیں۔تو لوگوں نے قوموں میں امتیازات کئے اور خوب کئے وہ خود پٹھان تھا مگر اپنی بہن کی کسی سید سے شادی کرنا ذلت اور رسوائی کا موجب سمجھتا تھا۔دوسری طرف میں نے بتایا کہ ایک کشمیری لڑکی کا میں نے ایک ہندوستان سے باہر سے آنے والی معزز قوم سے رشتہ تجویز