خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 348

خاص مقام پر جمع ہو جایا کرے اور خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت بجالایا کرے یہ صرف اسلام ہی ہے جس نے جمعہ کے علاوہ سال میں دو دن ایسے رکھے ہیں جس میں تمام شہر کے لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے کا حکم دیا ہے۔پھر اس میں بھی اسلامی اجتماع کو ایک خاص خصوصیت حاصل ہے۔بے شک جمعہ کو دوسری قوموں کے بعض دنوں سے اشتراک حاصل ہے۔مثلاً بعض اقوام سبت کو قابل احترام سمجھتی ہیں، بعض اتوار کے دن مندروں اور گرجوں میں عبادت کرنا ضروری سمجھتی ہیں مثلاً عیسائی ہیں ان میں سے اکثر اتوار کے دن گرجے میں ضرور عبادت کرتے ہیں اسی طرح ہندو بھی اتوار کو اپنے اپنے مندروں میں عبادت کرتے ہیں مگر اس میں بھی ہمیں ایک اور فرق نظر آتا ہے جو اسلام کو امتیاز عطا فرماتا ہے اور وہ یہ کہ اسلامی مسئلہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن تمام شہر کے لوگ ایک ہی مسجد میں جو جامع مسجد یا بڑی مسجد کہلاتی ہے جمع ہوں ، مگر ہندوؤں اور عیسائیوں میں ایسی کوئی شرط نہیں۔ہندو ہر مندر میں جمع ہو سکتے ہیں۔اسی طرح عیسائی اتوار کو ہر گر جے میں جا کر عبادت کر سکتے ہیں انہیں مذہبی لحاظ سے یہ حکم نہیں کہ وہ ایک گرجے مندر میں جمع ہوں یا ایک گرجے میں عبادت کے لئے اکٹھے ہوں لیکن اسلام نے یہ مسئلہ بتایا ہے کہ جمعہ کے دن شہر کے تمام لوگ ایک ہی مسجد میں اکٹھے ہوں اور سب مل کر اللہ تعالیٰ کی عبادت بجالائیں۔پس اسلام کے نزدیک حقیقی خوشی وہ ہے جب تمام لوگ جو ایک جتھے اور گر وہ میں شامل ہوں ایک جگہ جمع ہو جائیں اور پھر اس اجتماع کی یہ خصوصیت رکھی کہ اس میں بڑے اور چھوٹے کا کوئی فرق نہیں۔مسجد میں اگر کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی بیٹھا ہو اس کے ساتھ اسی دن کا نو مسلم جو خاکروبوں یا سائنسیوں میں سے آیا ہو کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے چاہے وہ بڑا آدمی بادشاہ ہی کیوں نہ ہو۔یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ یہ محض مسلمانوں کا عقیدہ ہے اس پر کبھی عمل نہیں ہوا کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ شروع سے مسلمانوں نے اس پر نہایت سختی سے عمل کیا ہے۔چنانچہ میں نہیں کہہ سکتا اب وہ جگہ ہے یا نہیں ممکن ہے وہ جگہ گرادی گئی ہو مگر جب میں عرب ممالک میں گیا تو اُس وقت میں نے دیکھا کہ ایک مسجد کی ایک جہت میں ایک حجرہ بنا ہوا تھا اور اس کے ارد گرد کٹہرا لگا ہوا تھا۔میں نے بعض لوگوں سے اس کے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ پرانے زمانہ میں جب بادشاہ آتے تھے تو وہ اس حجرہ میں نماز پڑھا کرتے تھے اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ایک دفعہ کوئی بادشاہ آیا اور اس کے ساتھ ہی ایک کتاس یعنی جھاڑو دینے والا بیٹھ گیا۔اس کے نوکروں نے اسے ہٹانا چاہا تو سب مسلمان اور ،