خطبات محمود (جلد 1) — Page 212
PIP۔گویا عید الفطر کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ایک ماہ روزے رکھنے سے خدا تعالیٰ ہمیں مل گیا۔اب سوچنا چاہئے کہ کیا سچ مچ ہمیں خدا مل گیا ہے۔کئی پاگل ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس ٹوٹی ہوئی طشتریوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں انہیں وہ روپے کہتے ہیں اور کنکر وغیرہ جمع کر کے انہیں ہیرے اور موتی قرار دے لیتے ہیں۔انہیں دیکھ کر وہ ایسے ہی خوش ہوتے ہیں جیسا فی الواقعہ ہیرے اور موتی رکھنے والا بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ جس کے پاس سچ سچ کے ہیرے موتی ہوں اسے یہ فکر رہتا ہے کہ کوئی انہیں کچرا نہ لے مگر پاگل کو یہ فکر بھی نہیں ہوتا اس لئے اس کی خوشی در اصل ہیرے موتی رکھنے والے سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔مگر باوجود اس کے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی خوشی اصلی خوشی ہے کیونکہ وہ غلط طور پر خوش ہو رہا ہے واقعہ میں اس کے پاس کچھ نہیں۔تو معلوم ہوا کہ اصلی خوشی اسی کی ہوتی ہے جسے واقعہ میں کوئی چیز مل جائے۔پس غور کرو کہ تمہاری عید سطحی اور بناوٹی تو نہیں اور اگر واقعہ میں روزوں یا کسی اور ذریعہ۔ریعہ سے تم نے خدا کو پا لیا تو تمہاری عید اتنی بڑی ہے کہ اس کے مقابل بادشاہوں کی عید بھی بیچ ہے کیونکہ جسے خدا مل جائے اس کے سامنے بادشاہ کیا حیثیت رکھتے ہیں۔نبیوں کا حال تو اور ہوتا ہے ان کے خادم اور غلام بھی ایسے ہو جاتے ہیں کہ بادشاہوں کی ہستی ان کے مقابل کچھ نہیں ہوتی۔نظام الدین اولیاء ایک بزرگ دہلی میں ہوئے ہیں جو بہت سے اولیاء کے پیر تھے۔ہندوستان میں ان کے ذریعہ بہت ہدایت پھیلی ہے۔انہوں نے ایک دفعہ کوئی ایسی بات کی کہ تغلق خاندان کا بادشاہ جو اس وقت ہندوستان پر فرمانروا تھا ناراض ہو گیا وہ اس وقت سفر پر جا رہا تھا اس نے کہا کہ واپس آکر میں ان کو سزا دوں گا۔مریدوں کو جب یہ اطلاع پہنچی تو اس بات سے بہت فکر ہوا اور جب بادشاہ واپس روانہ ہوا تو یہ فکر اور بھی بہت بڑھ گیا۔انہوں نے آپ سے کہا کہ بادشاہ آ رہا ہے اس لئے دہلی پہنچنے سے پہلے کوئی صلح کی کوشش کرنی چاہئے۔انہوں نے فرمایا ہم نے کیا کوشش کرنی ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہی ہاتھ میں ہے جو چاہے کرے۔بادشاہ جب اور قریب آگیا تو مریدوں کو اور فکر ہوا اور انہوں نے پھر کہا کہ اب تو تھوڑا فاصلہ رہ گیا ہے مگر آپ نے فرمایا کوئی غم نہ کرو ہنوز دلی دور است آخر بادشاہ بالکل قریب آگیا اور اسلامی بادشاہوں کا طریق یہ رہا ہے کہ وہ رات کے وقت شہر میں داخل نہیں ہوتے تھے اور در حقیقت رسول کریم ملی تی وی کی سنت بھی یہی ہے۔کہ بادشاہ بھی اس پر عمل کرتے تھے۔چنانچہ جب بادشاہ رات کے وقت شہر کے قریب پہنچا تو رات کو باہر ہی قیام کیا اور