خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 213

۲۱۳ اعلان ہو گیا کہ کل داخلہ ہو گا۔مریدوں نے پھر کہا کہ اب تو بادشاہ آیا ہی چاہتا ہے۔مگر آپ نے پھر وہی جواب دیا کہ ہنوز دلی دور است۔جب صبح ہوئی تو ان کے اخلاص مند مریدوں میں سخت گھبراہٹ تھی کہ اب بادشاہ شہر میں داخل ہو گا اور معلوم نہیں کیا آفت آئے مگر اطلاع ملی کہ بادشاہ کسی حادثہ سے فوراً مر گیا ہے اور اس کے بجائے اس کی لاش شہر میں داخل ہوئی۔تو اللہ تعالیٰ کا جو انسان ہو جائے اس کے مقابلہ میں بادشاہ بھی بیچ ہوتے ہیں کیونکہ حقیقی خوشی اسے ہی پہنچ سکتی ہے جس کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو۔بادشاہتیں کیا چیز ہیں۔غم و فکر کا انبار ہیں جن کے ساتھ کوئی تسلی نہیں۔نبوتیں بھی غم و فکر کا انبار ہوتی ہیں مگر ان کے ساتھ تسلی ہوتی ہے۔بادشاہ کی رات بھی فکر میں بسر ہوتی ہے اور دن بھی مگر نبی جب لوگوں کے غموں اور فکروں میں گھرا ہوا رات کو سوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے الہاموں کی لہر اُنہیں بالکل دور کر دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قول مجھے خوب یاد ہے آپ فرمایا کرتے تھے کہ بارہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت سے کہ میں تکیہ پر سر رکھتا ہوں خدا تعالیٰ کی یہ وحی نازل ہونا شروع ہوتی ہے۔اِنِّى مَعَ الرَّسُولِ أَقُومُ ، إِنِّى مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِكَ که اور اس وقت تک برابر جاری رہتی ہے جب میں سر تکیہ سے اٹھاتا ہوں۔اس الہام کے معنی یہ ہیں کہ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں دیکھوں تو کون اس پر حملہ کرتا ہے اور یہ کہ میں اپنے رسول اور اس کے اہل کے ساتھ ہوں۔تو غم و فکر تو شاید انبیاء کو بادشاہوں سے بھی زیادہ ہوتے ہیں مگر بادشاہ کا دن بھی بے چینی سے گذرتا ہے اور رات بھی۔مگر نبی کی وہ طاقت جو غم و فکر کی وجہ سے زائل ہوتی ہے دنیا سے علیحدگی کے وقت دوبارہ قائم ہو جاتی ہے۔پھر بادشاہ کا غم اپنی جان کے لئے ہوتا ہے مگر انبیاء کا دوسروں کے لئے۔بادشاہ کو یہ فکر ہوتا ہے کہ کہیں میں نہ مارا جاؤں مگر نبی کا فکر اس لئے نہیں بلکہ اس لئے ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ نہ ہلاک ہو جائیں۔۸؎ جب یہ حالت ہو تو یہ عید تو ایک عید ہے مگر وہ کیا عید ہے جب انسان کے اندر خدا تعالیٰ کی محبت کا کوئی ذرہ نہ ہو۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہر شخص کو یہ مقام حاصل ہونا چاہئے اور نہ ہر شخص محمد یا موسی یا عیسی ہو سکتا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایک ذرہ بھی قائم ہو گیا تو پھر حقیقتاً اس کی عید ہو جاتی ہے کیونکہ اگر ایک گھر میں ہزار لیمپ بھی رکھے ہوں مگر دیا سلائی نہ ہو تو گھر والوں کو فکر رہے گا کہ معلوم نہیں اندھیرے میں کیا گزرے لیکن اگر ایک گھر میں پیسے کی چار چار بکنے والی ایک موم بتی بھی